تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 176 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 176

172 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال تاریخ احمدیت جلد ۵ مرضیہ کہنے والوں میں سے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب حضرت خان صاحب ذو الفقار علی صاحب حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نواب خان صاحب ثاقب میرزا خانی، ملک عبد الرحمن صاحب خادم ، مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مولوی غلام احمد صاحب اختر اوچ شریف مولوی عبد الله صاحب مالا باری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۷۲ اخبار اہلحدیث ۲/ جولائی ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۵ کالم -۲ - اخبار پیغام صلح و ر جولائی ۱۹۲۹ء۔۷۴۔حضور نے اس ایک فقرہ میں حضرت حافظ صاحب کی پوری زندگی کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔چنانچہ جب ہم حضرت مولوی عبد الکریم اور آپ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو دونوں بزرگوں میں متعدد مما تھیں اور مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔دونوں اپنے زمانے میں صف اول کے علماء میں شمار ہوتے تھے۔دونوں خوش الحان واعظ مقرر تھے۔دونوں کی علمی و دینی خدمات کا سلسلہ آخر دم تک جاری رہا۔دونوں سنتالیس سال کی عمر میں اپنے مولی حقیقی سے جاملے۔۷۵ - الفضل ۳۸/ جون ۱۹۲۹ء- الفضل ۲۸/ جون ۱۹۲۹ء صفحہ ۲ کالم ۲- ۷۷۔الفضل ۷ / جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ ۳ کالم ۲۴۱ الفضل ۲۸ جون ۱۹۳۹ء- ۷۹ الفضل ۱۹/ نومبر ۱۹۴۰ء ۸۰ یاد رہے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جنوری ۱۹۱۹ء میں جب نظار توں کا قیام فرمایا تو اعلان فرمایا کہ میں نے جماعت کی ضروریات افتاء کو مد نظر رکھ کر مکرمی مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کرمی مولوی محمد اسمعیل صاحب اور مکرمی حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا ہے۔(الفضل ۴ / جون ۱۹۱۹ء صفحہ اکالم (۳) ملک صلاح الدین صاحب ایم۔انے جنہوں نے اصحاب احمد کی تین جلدوں میں آپ کی مفصل سوانح لکھی ہے بطور نمونہ آپ کے بچپن فتاری بھی شائع کئے ہیں جن سے حضرت مولانا کی تبحر علمی ، باریک نظری اور دینی بصیرت کا بخوبی اظہار ہوتا ہے۔۸۲- اصحاب احمد جلد پنجم حصہ سوم میں اس کا کئی مقامات پر ذکر آتا ہے نیز رپورٹ صدرا انجمن احمدیہ ۳۳-۱۹۳۲ء کے صفحہ ۳۱ پر لکھا ہے۔مفتی صاحب سلسلہ ان طلباء سے فتوئی کا کام بھی لے کر مشق کرواتے رہتے ہیں۔۸۳ - اخبار مبابلہ جاری کرنے والے کون تھے ؟ اس کا تذکرہ تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۶۲۱ تا ۶۲۵ میں گزر چکا ہے۔Ar اخبار جواب مسالہ نمبر ا صفحه ۲ ۸۵ الفضل ۱۷ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحه ۲ و الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۲۹ء صفحه ۲ کالم - اختبار ملاپ (۲۰/ اگست ۱۹۲۹ء) نے لکھا کہ سکھوں سے پوچھا گیا کہ تمہیں بوچڑ خانہ پر اعتراض تو نہیں تو انہوں نے بھی کہا کہ نہیں پس ڈپٹی کمشنر صاحب نے سمجھا کہ فیصلہ ہو گیا۔اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں تک ذیح کا تعلق ہے سکھ ذبح کے خلاف نہیں تھے۔اس کے بعد انہیں پہلے اقرار پر قائم نہ رہنے دینے میں کسی اور فریق کا ہاتھ تھا اور یہ فریق ہندوؤں کے سوا اور کون ہو سکتا تھا۔چنانچہ سکھوں کے مشہور اخبار اکالی (امرتسرانے تو صاف لکھا کہ گائے کی نذہبی عظمت کا سوال خالص ہند و سوال ہے اور سکھ جہاں جھٹکہ پر کسی قسم کی بندش برداشت نہیں کر سکتے وہاں دوسروں کو بھی کوئی خوراک کھانے سے نہیں روکنا چاہئے۔اسی طرح سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون نے اپنے اخبار ریاست (۲۴/ اگست ۱۹۲۹ء) میں لکھا۔جہاں تک کسی جانور کے مارنے کا سوال ہے ایڈیٹر ریاست کے ذاتی خیال کے مطابق گائے اور بکری یہاں تک کہ گائے اور ایک مکھی میں بھی کوئی فرق نہیں۔گائے سے متعلق سکھ قوم کی یہ رائے ہندوؤں سے پوشیدہ نہیں تھی۔جیسا کہ اخبار گورو گھنٹال (۳۱/ اگست ۱۹۲۹ء) نے اقرار کیا کہ سکھوں میں اب کچھ عرصہ سے بعض من چلے لوگ ایسے بھی پیدا ہو چکے ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ گائے کی عظمت کے قائل نہیں رہے بلکہ وہ سور اور گائے میں بھی کوئی تمیز کرنے کے لئے تیار نہیں۔(بحوالہ الفضل ۳/ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحه ۳-۴) ۸۷۔یاد رہے کمشنر صاحب کی عدالت میں مدیح کے خلاف قادیان کے ہندوؤں کی اپیل پیش ہوئی تھی کوئی سکھ ان کے ساتھ شامل نہ تھا۔