تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 174 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 174

تاریخ ا ت جلد ۵ 170 خلافت تانیہ کا سوله الفضل ۱۲ / فروری ۱۹۲۹ و صفحه ۵۰۴ الفضل ۱۱۹ فروری ۱۹۲۹ء صفحه ۴ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۲۴۷ تألیف و تصنیف الفضل ۲۹/ مارچ ۱۹۲۹ء صفحہ ۶-۷ - جس کا ذکر قبل از میں ۱۹۲۸ء کے حالات میں گزر چکا ہے۔ازیں و الفضل ۹/ اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۲ ۲۰ مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار ہمد رد ۵ / مارچ ۱۹۳۹ء میں ملاقات کا ذکر کیا تھا۔(مولانا محمد علی بحیثیت تاریخ اور تاریخ ساز صفحه ۳۳۶ شائع کردہ سندھ ساگر اکادمی لاہور طبع اول جنوری ۱۹۶۲ء ۲۱ مکمل متن کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۲ مارچ ۱۹۲۹ء صفحہ ۹- ۲۲ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۲۴۸- چنانچہ انہوں نے ۲۶ / مارچ ۱۹۲۹ء کو لکھا۔مسلمانوں کے مشہور لیڈروں کے درمیان جو باہمی اختلافات اور نزاع پیدا ہو گیا تھا اس کے دور کرنے کے واسطے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے جو سعی فرمائی تھی وہ بھی بفضلہ تعالی بار آور ہو رہی ہے چنانچہ جس وقت یہ رپورٹ مجلس مشاورت میں پیش ہو گی اس وقت راقم الحروف دہلی میں مسلمانوں کے دو بڑے لیڈروں مسٹر جناح اور سر شفیع اور ان کے رفقاء کی باہمی مصالحت میں انشاء اللہ کامیابی دیکھ رہا ہو گا۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۲۴۸) ۲۳- الفضل ۱۳/ اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۷- ۲۴- الفضل ۵ / اپریل ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۳ کالم ۲- ۲۵ الفضل ۷ / مارچ ۰۶۱۹۳۰ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۲۵۷- الفضل 11 / مارچ ۱۹۳۰ء صفحه ۴ کالم )۔3 ۲۸ عبد المجید صاحب سالک نے مسلم لیگ کے الحاق کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی سرگزشت میں لکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں کی مصلحت کو خوب جانتے تھے اور انہوں نے ہندوؤں کے سامنے اتمام حجت کر دیا اور پھر غصے میں بمبئی چلے گئے۔پھر خیال آیا ہو گا کہ دو لیگوں کا قائم رہنا خالص حماقت ہے خصوصاً جبکہ آل پارٹیز کانفرنس ملک بھر میں گونج اور گرج رہی ہے اور مسلم لیگ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔(صفحہ ۲۶۰-۲۶۱) ۲۹- الفضل ۱۳/ اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۱۲- ۳۰ اخبار تیج (دہلی) ۱۰ / اپریل ۱۹۲۹ء بحوالہ اہلحدیث امر تسر ۱۹ / اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۱۴-۱۵ بعض شریف اور غیر متعصب ہندوؤں نے اس موقعہ پر یہ بھی اقرار کیا کہ "اگر چہ بعض ہندو جرائد قتل راجپال کی آڑ میں مذہب اسلام اور اس کے بانی حضرت محمد صاحب کی ذات بابرکات کے خلاف نہایت کمینے الزامات تراشنے میں مصروف ہیں لیکن مسلمان لیڈروں کی صاف دلی ملاحظہ ہو کہ وہ ان ناقابل برداشت حملوں کو سنتے ہوئے بھی قتل راجپال میں ان کے ساتھ نہایت خلوص دلی سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں۔ہم مسلمان بھائیوں کا اس صاف دلی اور اظہار ہمدردی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔" اخبار رشی امر تسر ۱۸ / اپریل ۱۹۳۹ء) بحوالہ الفضل ۳۰/ اپریل ۱۹۲۹ء صفحہ ۴۔۳۲ تیج (دہلی) ۱۰/ اپریل ۱۹۲۹ء بحوالہ اہلحدیث امر تسر صفحه ۱۵ کالم ۳ ۳۳- الفضل ۱۲ / اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۱۲- ۴۴ الفضل ۱۹ / اپریل ۱۹۲۹ء صفحه ۶ تا ۸ ۳۵ الفضل ۲۵/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحه ۶ - بحواله الفضل ۱۳۸ مئی ۱۹۲۹ء صفحہ ۹ کالم :-