تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 173
تاریخ احمدیت مخرب 169 حواشی حصہ اول (دو سرا باب) خلافت ثانیہ کا سولہواں سال → د۔-A الفضل ۱۸/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۔رستہ میں ایک جگہ موٹر خراب ہو گئی وہاں قریب ہی کرکٹ کی کھیل ہو رہی تھی۔ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کی خواہش پر حضور کھیل کے میدان میں چلے گئے۔وہاں ہندوستان کے ایک مشہور مسلم لیڈر آگئے اور حضور کو دیکھ کر حیرانی سے کہنے لگے کہ آپ بھی یہاں آگئے۔حضور نے فرمایا۔یہاں آنے میں کیا حرج ہے۔کہنے لگے یہاں کھیل ہو رہی ہے آپ نے جواب دیا۔میں خود ٹورنامنٹ کراتا ہوں اور کھیلتے بھی جاتا ہوں۔پہلے فٹ بال بھی کھیلا کرتا تھا مگر اب صحت اسے برداشت نہیں کرتی۔انہیں یہ باتیں سن کر بہت تعجب ہوا۔گویا پڑھے لکھے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال ہے کہ دین اور ورزش ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء) الفضل ۱۸/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ا کالم ۲ آپ آخر ۱۹۲۸ء میں آئے تھے اور یکم دسمبر ۱۹۲۸ء کو انجمن حمایت اسلام لاہور نے ان کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا تھا۔یہ گورنر صاحب جماعت احمدیہ کی تعلیمی ترقی سے بہت متاثر تھے چنانچہ انہوں نے غالباً اسی ملاقات کے دوران میں یا کسی اور موقعہ پر کہا۔ایک ایسی جماعت نے جو مقابلاتا قلیل ہے اور جس کے بالی محدود ذرائع میں تعلیمی اعتبار سے نمایاں ترقی کی ہے اور یہ امریذات خود تمام ملت اسلامیہ کے لئے من حیث الجماعت ایک تعجب انگیز نمونہ ہے جن اصحاب نے اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کی اور جنہوں نے اس کی تائید اور معاونت کی میرے پاس ان کی تحسین کے لئے کافی کلمات نہیں ہیں"۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۳۱۸) مفصل تقرير الفضل ۵/ فروری ۱۹۳۵ء میں چھپ چکی ہے۔الفضل ۲۲/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحه ۱-۲- الفضل یکم فروری ۱۹۲۹ء صفحہ ۸- الفضل یکم مارچ ۱۹۳۹ء صفحہ ۶ کالم ۱-۲- خواتین اور طالبات کے لئے پردے کا انتظام تھا۔جو انعامات دیئے گئے ان میں سے تقریر اور مضمون نگاری کے انعام حاصل کرنے والے طلبائے جامعہ ومدرسہ کے نام یہ ہیں۔(جامعہ احمدیہ) مولوی محمد صادق صاحب عبد المنان صاحب عمر (مدرسه احمدیه) مولوی محمد سلیم صاحب شیخ عبد القادر صاحب (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۲۱۷) الفضل یکم فروری ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم ۳ و صفحه ۲ کالم ۲۔یعنی (۱) ہندوستان میں فیڈرل طرز کی حکومت ہو جس میں صوبوں کو مکمل خود اختیاری حاصل ہو۔(۲) جداگانہ انتخاب کو اس وقت تک قائم رکھا جائے جب تک کہ سیاسی میدان سے فرقہ وارانہ جذبات معدوم نہ ہو جائیں۔(۳) اسی دوران میں مختلف اقوام کے لئے مناسب آبادی کے لحاظ سے صوبجاتی مجالس قانون ساز میں نشستیں مخصوص کر دی جائیں۔اقلیتوں کو بے شک کچھ زائد مراعات دی جائیں لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایسا کرنے سے کوئی کثرت اقلیت میں تبدیل نہ ہو جائے۔(۴) سندھ کو مل صوبہ بنا دیا جائے۔(۵) صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اصطلاحات نافذ کر دی جائیں۔(۶) تمام مذاہب کے لئے کامل آزادی کا۔اصول تسلیم کیا جائے اور یہ بات سابقہ تمام باتوں کے ساتھ ملکی دستور میں داخل کبھی جائے۔الفضل ۱۳ / فروری ۱۹۲۹ء صفحه ۴-