تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 167
تاریخ احمدیت جلد ۵ 163 بڑے شوق و جوش سے مصروف کار تھے اور انجمن ترقی اسلام کا نمایاں کام ریاست کی اچھوت اقوام میں مدارس کا قیام اور ان میں تبلیغ اسلام کرنا تھا۔چنانچہ موضع بوئے پلی۔دینا چڑ اور محبوب نگر میں مدر سے قائم ہو گئے جن میں ایک سو سے زائد طالب علم تعلیم پاتے تھے۔ان مدرسوں کے اخراجات انجمن ترقی اسلام کے مقامی ریز رو فنڈ سے ادا کئے جاتے تھے۔مقدمه شاه جهانپور کا فیصلہ مقدمہ احمدیہ مسجد شاہ جہانپور کی اپیل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر تھی۔شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور مولوی فضل الدین صاحب مشیر قانونی نے پیروی کی۔بالآخر مقدمہ جی شاہ جہان پور سے احمدیوں کے حق میں فیصل ہوا تھا۔اس سال جماعت احمدیہ کی سات خواتین نے احمدی خواتین کی عربی امتحان میں کامیابی " مولوی" کا عربی امتحان پاس کیا۔جن میں سے محترمہ امتہ السلام بیگم صاحبہ بنت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب یو نیورسٹی میں خواتین میں اول اور حضرت سارہ بیگم صاحبہ سوم رہیں۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ اتنی احمدی مستورات اس امتحان میں پاس ہو ئیں۔۱۴۵ تمبر ۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے کہ جماعت احمد یہ پشاور کے ایک مخلص ایک احمدی پر قاتلانہ حملہ احمدی میاں محمد یوسف صاحب پر قصہ خوانی بازار میں ایک شخص نے پشاور میں چاقو سے محض اس لئے قاتلانہ حملہ کر دیا کہ اس کا بھائی ان کے ذریعہ سے داخل سلسلہ احمد یہ ہو چکا تھا۔اور کسی موقع پر میاں محمد یوسف صاحب نے اسے بھی قبول احمدیت کی دعوت دی تھی مجرم اسی وقت مگر فتار کرلیا گیا اور عدالت نے دو سال قید بامشقت کی سزا دی۔ماریشس: حافظ جمال احمد صاحب نے آریہ بیرونی مشنوں کے بعض ضروری واقعات سماجیوں کے خلاف مسلمانوں کے مشترکہ جلسوں میں کامیاب تقریریں کیں اور وہاں کے مسلمان سیٹھوں نے اقرار کیا کہ اسلام کی فتح احمدیوں کے ہاتھ پر ہوئی ہے۔سماٹرا: یکم رمضان کو پاڈانگ میں مسئلہ معراج پر ایک غیر احمدی مولوی صاحب سے مناظرہ ہوا۔مشتعل ہجوم نے مناظرہ کے دوسرے دن مولوی رحمت علی صاحب اور حاجی محمود صاحب کو گالیاں دیں اور احمد یہ مشن ہاؤس پر پتھر پھینکے۔دو گھنٹے تک یہ ہنگامہ جاری رہا۔جسے دیکھ کر اسی جگہ دو احباب داخل سلسلہ احمدیہ ہو گئے۔