تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 163
تاریخ احمدیت جلد ۵ 159 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب سے پہلے کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے۔کہ اگر انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمد یہ جماعت کو کمزور کیا جائے۔چنانچہ مجلس احرار اسلام نے اس نقطہ کو بھی اپنی تحریک کا جزو لا ینفک بنالیا اور جس طرح انہوں نے اس سے پہلے نہرو رپورٹ " کے مخالفین کو قصر بر طانیہ کے ستون مشہور کر رکھا تھا اور آئندہ چل کر مسلم لیگ اور خاکسار تحریک کو انگریزی ایجنٹ اور دام فرنگ کے نام سے موسوم کیا۔جماعت احمدیہ کو " برطانوی ایجنٹ قرار دے کر اس عظیم الشان اسلامی تنظیم کے خلاف بر سر پیکار ہو گئے۔جو کانگریسی ذہن کے عین مطابق تھا۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب " تاریخ احرار " میں صاف لکھتے ہیں " کانگرسی مسلمانوں کا ذہن بے حد متشکلک اور متشدد ہے ۱۹۳۵ء سے پہلے تو لوگوں کو سی۔آئی۔ڈی اور انگریز کے ایجنٹ کا الزام لگا نا عام تھا۔کانگریسی مسلمان اپنے دعوئی اور عمل میں مخلص ہوتے ہیں مگر وہ دو سروں کو ہمیشہ بد عقل اور دوسروں کا آلہ کار سمجھتے ہیں 10 - مجلس احرار کا ترجمان اخبار " آزاد " (لاہور) اسی بناء پر لکھتا ہے۔” جب حجتہ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ صاحب کا شمیری حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور حضرت مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری و غیر هم رحم اللہ کے علمی اسلحہ فرنگی کی اس کاشتہ داشتہ نبوت کو موت کے گھاٹ نہ اتار سکے تو مجلس احرار اسلام کے مفکر اکابر نے جنگ کا رخ بدلا۔نئے ہتھیار لئے اور علمی بحث و نظر کے میدان سے ہٹ کر سیاست کی راہ سے فرنگی سیاست کے شاہکار پر حملہ آور ہو گئے "۔اس اہم ترین سیاسی مقصد کے علاوہ جو دراصل کانگریس کے پروگرام کی تکمیل کے لئے از حد ضروری تھی) تحریک احمدیت کی مخالفت میں بعض اور عوامل بھی کار فرما تھے۔مثلاً نہرو رپورٹ کی اندھا دھند تائید کی وجہ سے اس گروہ کے وقار اور عظمت کو سخت نھیں پہنچی تھی۔جس کے ازالہ اور دوبارہ مسلمانوں میں نفوذ و مقبولیت کے لئے احمدیت کی مخالفت ایک کارگر ہتھیار تھا۔جو غیر احمدی علماء اپنی شہرت و عزت کی دکان چمکانے کے لئے ابتدا سے استعمال کرتے آرہے تھے۔جماعت احمدیہ سے مخالفت کی ایک اہم وجہ مولوی ظفر علی خاں کے اخبار "زمیندار" کے نزدیک مسلمانوں سے مالی منفعت " کا حصول تھا۔چنانچہ اس نے لکھا۔"بتدریج یہ حقیقت زمانے نے مولانا حبیب الرحمن اور چودھری افضل حق پر واضح کر دی کہ کیا خدمت دین کے اعتبار سے اور کیا مالی منفعت کے لحاظ سے قادیانیت کی مخالفت موثر ترین ہے"۔یہ نظریہ اس لحاظ سے خاص طور پر