تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 153
تاریخ احمدیت جلد ۵ 149 خلافت ثانیہ کا سولہوار ممبر مسلمان ہوں، باقی ہندو سکھ اور مسیحی وغیرہ چونکہ اس تجویز کے نتیجہ میں مسلمانوں کی پچپن فیصدی کی اکثریت اکاون فیصدی میں بدل جاتی تھی اور مسلمانان پنجاب کے سیاسی مفاد کو نقصان پہنچتا تھا اس لئے حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے ان کی رائے کے خلاف الفضل (۳۰/ اگست ۱۹۲۹ء) میں آواز اٹھائی اور ان ممبروں کی چار اصولی غلط فہمیوں کی نشاندہی فرمائی۔جن کا رد عمل موجودہ تجویز کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔اور پھر ان کے ازالہ کی تین صورتیں تحریر فرما ئیں۔حضور کا یہ مضمون اخبار "سیاست" اور " دور جدید " میں شائع ہوا تو ضلع میانوالی کے ایک غیر احمدی محمد حیات خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس پیشنر نے ۱۸ ستمبر ۱۹۲۹ء کو حضور کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا۔بخدمت مکرم و معظم بنده جناب والاشان حضرت خلیفہ صاحب قادیان بعد السلام علیکم و آداب و تسلیمات گزارش ہے کہ جناب کا مضمون پڑھ کر جس اعلیٰ قابلیت و باریکی سے آپ نے نقائص اور ان کے علاج بتائے ہیں ان کی داد دینی پڑتی ہے۔اگر چند اخبارات نے بھی ہوشیاری سے نقائص و علاج لکھتے ہیں مگر حضور کی باریکی کو نہیں پہنچ سکے دیگر جس مسلمان نے بھی اس مضمون کو پڑھا ہے میری تائید کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کی جزائے خیر دے الخ " برطانوی حکومت نے جن مسلمانان فلسطین پر یهودی یورش کے خلاف احتجاج عرب ملکوں کو سہلی جنگ عظیم کے بعد ترکوں کے اقتدار سے آزاد کرانے کا تحریری معاہدہ کیا تھا ان میں فلسطین بھی شامل تھا لیکن اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے دنیا بھر کے یہودیوں کی ایجنسی سے یہ خفیہ وعدہ کر لیا تھا کہ جنگ کے بعد یہودیوں کے لئے فلسطین ایک قومی گھر بنا دیا جائے گا۔چنانچہ عربوں سے کئے ہوئے وعدے تو پس پشت ڈال دیئے گئے اور یہودیوں کی آباد کرنے کی مہم بڑے زور شور سے شروع کر دی۔اور یہودیوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے مسلمانان فلسطین کو نشانہ ظلم دستم بنانا شروع کر دیا۔ان مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب کی صدارت میں ۱۴/ ستمبر ۱۹۲۹ء کو ایک غیر معمولی جلسہ ہوا۔جس میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کی قرارداد پیش کر کے ایک مفصل تقریر فرمائی اور اپنے چشم دید حالات و واقعات کا ذکر کر کے بتایا کہ یہود کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کے لئے بہت خطرناک چال چلی جا رہی ہے۔ان کے علاوہ شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار "نور" شیخ محمود احمد صاحب عرفانی، سید محمود اللہ شاہ صاحب اور چودھری ظہور احمد صاحب نے حفاظت حقوق مسلمانان فلسطین کی طرف حکومت کو