تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 150
تاریخ احمر بت مفید ۵ 146 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال حضرت مولانا کا طریق تھا کہ آپ جامعہ احمدیہ کے طلبہ کو بھی استفتاء کا جواب دینے کے لئے ارشاد فرماتے اور ساتھ ہی کتابوں کی بھی رہنمائی فرماتے اور پھر اس پر نظر ثانی کر کے بھجواتے اس طرح آپ کی رہنمائی اور نگرانی میں آپ کے شاگردوں کو بھی فقہی مسائل میں دسترس حاصل ہو جاتی۔اخبار " مباہلہ " دسمبر ۱۹۲۸ء سے نہایت ناپاک اور شرمناک پراپیگنڈا کر " جواب مباہلہ" رہا تھا۔جس کے تحقیقی اور مدلل جواب کے لئے مولوی ابو العطاء صاحب جالندھری سیکرٹری انجمن انصار خلافت لاہور نے " جواب مباہلہ کے نام سے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ جاری کیا۔اس سلسلہ میں پہلا ٹریکٹ ۳۰ / جون ۱۹۲۹ء کو لاہور سے شائع ہوا۔مولوی ابو العطاء صاحب نے اس سلسلہ کے شروع کرنے سے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ سے اجازت بھی چاہی اور ضروری ہدایات کی بھی درخواست کی۔حضور نے اپنے قلم سے مندرجہ ذیل نهایت پر زور اور بصیرت افروز جواب تحریر فرمایا جو پہلے ٹریکٹ میں بھی شائع کر دیا گیا۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر مکرمی - السلام علیکم۔بے شک اس کام کو شروع کریں اللہ تعالیٰ آپ کا مددگار اور ناصر ہو۔میں تو خودان امور کا جواب دینا شرعاً اور بعض رؤیا کی بنا پر مناسب نہیں سمجھتا لیکن ایک ادنی تدبر سے انسان ان لوگوں کے مفتربانہ بیانات کی حقیقت کو پا سکتا ہے۔میرا جواب تو میرا رب ہے میں اسی کو اپنا گواہ بنا تا ہوں وہ سب کھلی اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور اسی کا فیصلہ درست اور راست ہے وہ اس امر پر گواہ ہے کہ اخبار مباہلہ والوں نے سر تا پا جھوٹ بلکہ افترا سے کام لیا ہے اور انشاء اللہ وہ گواہ رہے گا۔میں اس کے فضل کا امیدوار اور اسی کی نصرت کا طالب ہوں رب انی مغلوب فانتصر میں ان لوگوں کے بیانات پر جو اخبارات میں شائع ہوئے ہیں سوائے اس کے یہ کہوں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی لعنت سے ڈرنا چاہیئے کہ سر تا پا کذب و بستان سے کام لے رہے ہیں اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا اگر میرا رب مجھ سے کام لینا چاہتا ہے تو وہ خود میرا محافظ ہو گا اور اگر وہی مجھ سے کام نہیں لینا چاہتا تو لوگوں کی تعریفیں میرا کچھ نہیں بنا سکتیں۔باقی رہیں ہدایات سو میرے نزدیک ہر ایک عظمند انسان جو شریعت کے امور سے کچھ بھی واقفیت رکھتا ہو ان لوگوں کے غلط طریق سے آگاہ ہو سکتا ہے۔ہاں ایک سوال ہے جس کا شائد آپ جواب نہ دے سکیں اور وہ یہ ہے کہ بعض نادان اور شکوک و شبہات میں