تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 144 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 144

تاریخ احمدیت جلد ۵ 140 خلافت عثمانیہ کا سولہواں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی سری مگر تشریف لے گئے۔سری نگر میں حضور نے ہاؤس بوٹ میں قیام فرمایا۔اس سفر کی (جو کشمیر کا اس وقت تک آخری سفر ہے ) نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ حضور نے دوران قیام میں ریاست کشمیر و جموں کی جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کو اپنی تقریروں اور خطبوں میں ایمان کے ساتھ عمل صالح اختیار کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی اور مختلف طریقوں اور پیرایوں سے ان کو اخلاقی، ذہنی اور روحانی تغیر پیدا کرنے کی انقلاب انگیز دعوت دی اور خصوصاً کشمیری احمد نیوں کو ان کی تنظیمی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔اس سلسلہ میں حضور کے خطبات و تقاریر کے بعض اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔یہاں کی جماعت تنظیم کی طرف توجہ نہیں کرتی۔اگر وہ منظم جماعت کی صورت میں ہو اور تبلیغی کوششوں میں لگ جائے تو ریاست میں اچھا اثر پڑے۔اس علاقہ میں جماعتیں تو موجود ہیں اور اچھی جماعتیں ہیں مگر چونکہ ان کی کوئی تنظیم نہیں اس لئے علاقہ پر اثر نہیں پڑتا۔اگر ایسا ہو جائے تو مسلمان ترقی کر سکتے ہیں"۔(فرمودہ ۲۷/ جون ۱۹۲۹ء) ( بمقام سرینگر ( ۲ - " صحیح طریق یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جس قدر کسی کی طاقت ہو۔اس قدر کرے اس سے وہ اپنی حالت میں ایک پورا درخت ہو جائے گا جو کم و بیش دوسروں کے لئے فائدہ کا موجب ہو گا اس کے اندر حسن سلوک کی عادت احسان کرنے کا مادہ ہو ، لوگوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کی عادت ہو الغرض تمام قسم کی نیکیاں کم و بیش اس کے اندر ہوں۔۔۔۔۔۔تب ہی اس کے اندر سر سبز درخت والی خوبصورتی پیدا ہو گی " - ( فرموده ۲۱/ جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر)۔جو باتیں مسلمانوں نے چھوڑ دی ہیں جب تک وہ دوبارہ ان میں پائی نہ جائیں کبھی اور کسی خال میں ترقی نہیں کر سکتے۔محنت کی عادت ڈالیں ، دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں خدمت خلق کو اپنا فرض سمجھیں تب وہ ترقی کر سکتے ہیں اسلام چونکہ اچھی چیز تھی اس وقت تک اس ملک میں اسلام کی خوبیوں کا نقش موجود ہے۔گو مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے مٹادیئے گئے یہاں کشمیر میں بھی یہی مرض پایا جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے خطبے اس طرز کے بیان کرنے شروع کئے ہیں کہ مسلمانوں میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے جو پستی ہے اس میں تبدیلی پیدا ہو۔کیونکہ مسلمان اپنی مدد آپ نہ کریں گے محنت نہ کریں گے دیانتداری سے کام نہ کریں گے اپنے آپ کو مفید نہ بنا ئیں گے تب تک ترقی نہ ہوگی۔۔۔مسلمانوں کو چاہئے خدا تعالی کی امداد کے طالب ہوں۔دوسروں پر توکل نہ کریں بلکہ خود عمل کریں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والوں میں سے ہوں " - (فرموده ۵/ جولائی ۱۹۳۰ء بمقام