تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 130 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 130

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 126 ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک میں زبر دست آزاد اور مضبوط حکومتیں ہوں۔یہی وجہ تھی کہ باوجود اس کے کہ شریف حسین کے زمانہ میں ہم اس کی حکومت کو نا جائز سمجھتے اور اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز قرار دیتے تھے لیکن جب سلطان ابن سعود نے پوری طرح وہاں اپنا تسلط جما لیا اور اس کی حکومت قائم ہو گئی تو اب ہم اس کو جائز سمجھتے اور اس کے خلاف بغاوت کو ناجائز قرار دیتے ہیں اب اگر شریف بھی اس پر حملہ کرے گا۔تو ہمیں برا لگے گا۔اس لئے ہم بچہ سقہ کو بھی برا سمجھتے ہیں کہ اس نے ایک آزاد اسلامی حکومت کو ضعف پہنچایا۔جب تک وہ خود وہاں حکومت قائم نہ کر لے ہم اسے براہی کہیں گے۔اب وہاں خواہ کوئی بادشاہ ہو جائے امان اللہ خاں ہو یا عنایت اللہ خاں یا در خاں ہو۔یا علی احمد جان یا بچہ سقہ جو بھی وہاں ایسی حکومت قائم کرلے گا۔جو سارے افغانستان پر حاوی ہوگی۔بالکل آزاد ہو گی کسی دوسری سلطنت کے ماتحت نہ ہوگی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشش کرے گی ، اس کے ہم ایسے ہی خیر خواہ ہوں گے جیسے ان اسلامی حکومتوں کے ہیں جو اپنے ممالک میں مسلمانوں کی ترقی کی کوشش کر رہی ہیں۔پس ہمارے آئندہ کے متعلق احساسات یہ ہیں کہ وہاں ایسی حکومت قائم ہو جو بالکل آزاد ہو۔وہ نہ انگریزوں کے ماتحت ہو نہ روسیوں کے نہ کسی اور کے ہم اسے بھی پسند نہیں کرتے کہ افغانستان ایک دفعہ کامل آزادی حاصل کرنے کے بعد تھوڑا بہت ہی انگریزوں کے ماتحت ہو ہم اسے اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ آزاد ہو۔مضبوط ہو ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو اور نہ کسی کے ماتحت یا زیر اثر ہو۔اگر وہاں ایسی حکومت قائم ہو جائے تو حکمران خواہ کوئی ہو ایسی حکومت اسلام کے لئے مفید ہو گی ہم اسے سخت نا پسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے معاملات میں کسی قسم کا دخل دیا جائے اور ہم امید رکھتے ہیں گورنمنٹ اس بات کی احتیاط کرے گی کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں ہرگز مداخلت نہ کی جائے اور جیسے وہ پہلے آزاد تھا ویسے ہی اب بھی رہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کو صرف اس بات کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور انجمنوں کو بالاتفاق پورے زور کے ساتھ یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ ہم اسے سخت ناپسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے فسادات کے نتیجہ میں کوئی غیر قوم خواہ وہ انگریزی ہوں اس ملک پر کسی قسم کا تصرف کرے افغانستان اسی طرح آزاد ہونا چاہئے جیسے پہلے تھا۔تاکہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو جو پہلے ہی کمزور ہے مزید نقصان نہ پہنچے۔مذاہب کانفرنس کلکته ۲۷-۲۸ جنوری ۱۹۲۹ء کو برہمو سماج کے زیر انتظام کلکتہ یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں مذاہب کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں مولوی دولت احمد خاں بی ایل ایڈیٹر رسالہ " احمدی نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے قائم مقام کی حیثیت میں