تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 131 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 131

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 127 خلافت عثمانیہ کا سولہواں سال مضمون پڑھا اور مولوی عبد القادر صاحب ایم۔اے مولوی فاضل احمدی پروفیسر اسلامیہ کالج کلکتہ نے بتایا کہ دنیا میں اسلامی اصولوں کی تعلیم و ترویج بین الاقوامی طور پر ہمدردانہ جذبات پیدا کرنے کا موجب ہوگی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے غیر مشتبہ الفاظ میں اخوت انسانی کی تعلیم دی ہے۔طلبہ میں تقسیم انعامات کا مشترکہ جلسہ لڑکوں اور لڑکیوں میں عملی ذوق و شوق بڑھانے کے لئے ۲۸/ جنوری ۱۹۲۹ء کو تعلیم ان اسلام ہائی سکول قادیان کے ہال میں قادیان کے مرکزی اداروں کا تقسیم انعامات کا مشترکہ جلسہ ہوا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے خود اپنے ہاتھ سے انعامات تقسیم فرمائے اور تقریر بھی فرمائی جس کے شروع میں فرمایا کہ " جلسہ تقسیم اسناد میرے نزدیک ایک ایسا نکشن ( تقریب) ہے جو سکول کی زندگی کو زیادہ دلچسپ بنانے میں بہت مفید ہو سکتا ہے اور ہم صرف ایک ضرورت کو آج پورا نہیں کر رہے۔بلکہ اس ضرورت کو اس کے وقت سے بہت پیچھے پورا کر رہے ہیں“۔اس کے بعد حضور نے ہدایت فرمائی کہ " میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ انعاموں کو ہمیشہ طالب علم کے سامنے رکھنے کا انتظام ہونا چاہیئے جب تک انعامات ایک لمبے سلسلے کے ساتھ وابستہ نہ کر دیئے جائیں وہ ایسے دلچسپ اور مفید نہیں ہو سکتے۔یہ ایک ضروری بات ہے جسے پورا کرنا ہمارے منتظمین کا فرض ہونا چاہیئے۔ٹورنامنٹ کے انعاموں کے متعلق بھی ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ وہ سارا سال ورزش کا شوق دلانے میں محمد ثابت ہو سکیں اور علوم کے انعامات کے متعلق بھی ایسا ہی ہونا چاہیئے اگر زمانہ امتحان میں پڑھائی کا شوق پیدا کیا جائے تو یہ اتنا مفید نہیں ہو سکتا جتنا سار ا سال محنت کرنے کا ہو گا"۔یہ مرکز احمدیت میں اپنی نوعیت کا پہلا جلسہ تھا۔۳۱/ جنوری ۱۹۲۹ء کو پنجاب کے نمائندگان گورنر پنجاب کی خدمت میں ایڈریس جماعت احمدیہ نے گورنر پنجاب کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔جس میں جماعت کی تاریخ اس کی علمی و دینی خدمات اور تعلیمی ترقی پر روشنی ڈالنے کے بعد مسلمانوں کے چھ متفقہ مطالبات پیش کئے اور افغانستان کے سیاسی تغیرات کی نسبت یہ درخواست کی کہ مرکزی حکومت پر زور دیا جائے کہ نہ صرف یہ کہ افغانستان کے متعلق عدم مداخلت کی پالیسی بر قرار رکھی جائے بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے کامل آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔ہز ایکسی لینس گورنر پنجاب نے اس ایڈریس کے جواب میں جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز علمی ترقی