تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 123 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 123

تاریخ احمدیت - جلد ۵ دریائے بیاس 119 ن ۲۶۶- الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ے کام ۲ جالندھر کی طرف بوماری الائن، ۲۹۷ الفضل ۷ ارجون ۱۹۲۸ء صفحہ ا کالم ۲ ۲۲۸ - الفضل ۲۰۱۶/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحه اکالم ۲۰۱ ٢٦٩۔الفضل ۳۰ / نومبر ۱۹۲۸ء صفحہ اکالم ) ٢٧٠- الفضل االر دسمبر ۱۹۲۸ء صفحہ اکالم ) ٢٧١ الفضل ۲/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحہ ا کالم ایتار پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۲۵۰ ۲۷۲- مکتوب شیخ محمد دین صاحب محرر ۲۰۰/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحه ۵ (بنام مولف کتاب) ۲۷۳- " اصحاب احمد " جلد اول صفحہ ۱۰۴ میں لکھا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے منشی صاحب کو حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب کا نائب فرمایا اور خشی صاحب کئی ماہ تک سارا سارا دن پیدل سفر کر کے تندہی سے کام کرتے رہے۔۲۷۲ ماخوذ از مکتوب جناب شیخ محمد دین صاحب سابق مختار عام ۲۰/ جولائی و ۲۷/ جولائی ۱۹۶۵ء ۲۷۵ - الفضل ۲۳/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۷ ۲۷۶۔اس کا مکمل متن الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۸۰۷ میں چھپا ہوا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے قادیان میں گاڑی آنے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہمرکاب سفر کرنے کی نسبت ایک مبشر خواب بھی دیکھا تھا جس کا ذکر آپ نے اس ٹریکٹ میں بھی کر دیا ہے۔۲۷۷ ایضاً صفر ۲۷۸ مدرسہ احمدیہ کے سکاؤٹس کی تنظیم ان دنوں بہت مستعد اور سرگرم عمل تھی۔اس تنظیم کا ایک کارنامہ یا د رہے گا۔اور وہ یہ کہ جب ۲۷ / بیمہ ۱۹۲۷ ، کے جلسہ میں بہت سے لوگوں کو پنڈال کی کوتاہی کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے اظہار ناراضگی فرمایا۔جس پر مدرسہ احمدیہ کے سکاؤٹس دوسرے احباب کے ساتھ حضرت میر محمد اسحاق صاحب ناظر ضیافت کی نگرانی میں رات کے گیارہ بجے سے لے کر فجر کی نماز سے کچھ پہلے تک نہایت محنت ، غیر معمولی تدبر اور پوری تندہی سے بغیر ایک منٹ کے وقفہ اور آرام کے شہتیریاں اٹھانے اور انہیں اور گارا ہم پہنچانے کا کام کرتے رہے اور جلسہ کی جگہ کافی وسیع ہو گئی اور اس کے احاطہ میں تین ہزار کے قریب زیادہ نشستوں کی گنجائش پیدا ہو گئی۔کام کرنے والوں میں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی شامل تھے۔غرض یہ کام اس خاموشی اور عمدگی سے انجام پایا کہ دوسرے روز دو سری تقریر کے وقت حضور نے اس کام پر اظہار خوشنودی فرمایا۔اور سکاؤٹس اور دوسرے لوگوں کو اپنے دست مبارک سے بطور یادگار تمغے عنایت فرمائے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۷۶۱۷۵ او الفضل ۳/ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ ۲) قادیان کے رسالہ "جامعہ احمدیہ " کے سالنامہ (صفحہ ۴۳) پر ان سکاؤٹس کی تصویر شائع شدہ ہے۔۲۷۹- الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۸ء ۲۸۰۔اس پہلی گاڑی کے گارڈ کا نام بابو ولی محمد صاحب اور ڈرائیور کا نام بابو عمر دین صاحب تھا گاڑی امرت سر سے بٹالہ تک ۲۵ میل فی نگھنٹہ کی رفتار سے بٹالہ تا قادیان ۵ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آئی جس میں پانچ ہو گیاں تین سنگل گاڑیاں اور دو بر یک دان تھیں۔انجمن ST Class اور ۷۰۹ نمبر کا تھا۔اس پہلی گاڑی کو جو امرت سرسے قادیان جانی تھی دیکھنے اور اس میں سفر کرنے کے لئے دور ترین فاصلہ سے جو پہلے ٹکٹ خریدے گئے وہ مکرم شیخ احمد اللہ صاحب ہیڈ کلرک کنٹونمنٹ بورڈ نو شہرہ اور ان کی ہمشیرزادی زبیده خاتون صاحبہ کے نو شہرہ چھاؤنی سے قادیان تک کے تھے یہ گاڑی رات کو ۲ ۱۷ ۶ بجے امرت سر چلی گئی جس میں بٹالہ امریت سر اور لاہور کے بہت سے اصحاب واپس ہو گئے۔ریل کے افتتاح پر احمدیان مالابار اور احمد یہ ایسوسی ایشن میمو(برما) نے