تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 124 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 124

تاریخ احمدیت جلد ۵ 120 خلافت ثانیہ کا پندرھواں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حضور مبارکباد کے تار ارسال کئے اور اپنی عدم شمولیت پر اظہار افسوس کیا۔۲۸۱ " تاریخ احمدیت جلد سوم ( صفحه ۵۵۷-۵۵۸-۵۸۰) اور تاریخ احمدیت جلد چهارم (صفحہ ۲۱۴-۲۱۵) پر اس حقیقت کی تائید میں متعدد شواہد موجود ہیں۔اس کے علاوہ ملاحظہ ہو حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کا مضمون مطبوعہ الفضل ۲۵/ ستمبر ۱۹۶۴ء صفحه ۵) ۲۸۲- الفضل ۶ جون ۱۹۲۴ء صفحہ ۹ کالم ۲ ۲۸۳ الفضل ۳/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه اکالم ۲ ۲۸۴- ٹریکٹ " الصلح خیر صفحه ۲-۳ ۲۸۵۔تفصیل ۱۹۳۰ء کے حالات میں آئے گی۔۲۸۶ - الفضل ۴ / جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ سے کالم ۲ ۲۸۷ الفضل یکم جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۱-۲-۱۱-۱۲ ۲۸۸- "فضائل القرآن " طبع اول صفحه ۱۳۴-۱۳۵ ۲۸۹۔اس سلسلہ کے پانچ ابتدائی لیکچر خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم ایڈیٹر " الفضل " نے قلمبند کئے اور آخری تقریر مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم نے لکھی۔ان سب تقریروں کا مجموعہ الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ نے فضائل القرآن " ہی کے نام سے دسمبر ۱۹۶۳ء میں شائع کر دیا ہے۔-۲۹۰ فضائل القرآن " طبع اول صفحه ۴۳۹ ٢٩ الفضل ٢ / مارچ ۱۹۲۸ء صفحہ ۵۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے حقیقی بچاتھے آپ نے ۱۸۹ ء میں تحریری اور فروری ۱۸۹۲ء میں دستی بیعت کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل بیت سے بہت اخلاص رکھتے تھے اور خلافت سے وابستگی تو ان کے ایمان کا جزو تھا۔(الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۲۸ء) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحه ۴۴۰-۲۲۲) ۳۱۳ کی فہرست میں آپ کا نام ۷ ۴ نمبر پر لکھا ہے۔۲۹۳- بعمر ۸۹ سال ریکارڈ بہشتی مقبره قادیان) ۳۱۳- اصحاب میں ان کا نام ۵۹ نمبر پر درج ہے۔۲۹۴۔حضرت میاں چراغ دین صاحب "رئیس لاہور کے چھوٹے بھائی اور حضرت میاں محمد شریف صاحب ای۔اے۔سی کے والد - سلسلہ احمدیہ کے آغاز ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدام میں شریک ہوئے اور نہایت اخلاص سے زندگی بسر کی الفضل ۱۰ / اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۲) و (الفضل ۲۴/ اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۹ کالم) ۲۹۵- ولادت ۱۸۴۸ء سن بیعت ۱۸۹۸ء شروع عہد خلافت ثانیہ سے معتمد صدر انجمن احمد یہ تھے۔۱۹۲۱ء میں جب امراء کا نظام قائم ہوا تو حضرت خلیفتہ صحیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے آپ کو جماعت امر تسر کا امیر مقرر فرمایا۔(الفضل ۳۰/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۶-۷) ۲۹۶- غلام حسین صاحب لدھیانوی کا بیان ہے کہ میں نے حافظ صاحب سے دریافت کیا کہ آپ حضرت مسیح موعود کی بیعت میں کس طرح داخل ہوئے۔آپ نے فرمایا۔جب حضور (پہلی بار الدھیانہ تشریف لائے تو میں نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ لدھیانہ تشریف لائے ہیں اور خواب ہی میں اس محلہ اور مکان کا پتہ بھی دیا گیا میں تلاش میں نکلا تو بعینہ حضرت صاحب کی زیارت ہوئی۔اور میں حضور کی مجلس میں حاضر ہو تا رہا۔اس کے بعد بیعت اولی کے موقعہ پر حضرت حاجی منشی احمد جان صاحب کے مکان پر جاکر بیعت کرلی۔بیعت کنندگان کی فہرست میں آپ کا اس وقت چودھواں نمبر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام حصہ اول طبع اول کے صفحہ ۸۱۷ پر آپ کا ذکر خیران الفاظ میں کیا ہے۔" حافظ صاحب جو ان صالح بڑے محب اور مخلص اور اول درجہ کا اعتقاد رکھنے والے ہیں ہمیشہ اپنے مال سے خدمت کرتے رہتے ہیں جزا ہم اللہ خیر الجزا۔۱۳۱۳ اصحاب کبار کی فہرست میں آپ کا نام ۷۸ انمبر پر مرقوم ہے۔(الفضل / جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۲) ۲۹۷ الفضل ۲۴ فروری ۱۹۲۸ء صفحہ۔ان کے مفصل حالات حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے قلم سے الفضل ۳/ مارچ ۱۹۲۸ء صفحہ ۸-۹ پر شائع شدہ ہیں۔۲۹۸- خواتین میں سے اہلیہ حضرت مولوی صوفی حافظ غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس /۱۲/ جنوری ۱۹۲۸ء کو اور محمودہ بیگم صاحبہ (البیہ