تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 122 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 122

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 118 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال ۳۵۳- الفضل ۸/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحه ۱۲ و الفضل ۱۸؍ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۰ کالم ۳ ۲۵۳- "ذکر اقبال " صفحه ۱۴۳ ۲۵۴- "مسلمانان ہند کی حیات سیاسی صفحہ ۱۲۲-۱۲۳ ۲۵۵ - الفضل ار جنوری ۱۹۲۹ء صفحه ۱ ۲۵۶۔"سرگزشت" از عبد المجید سالک) صفحه ۳۶۰ ۲۵۷- " سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۹۸-۳۹۹) مولفه قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) ۲۵۸- خطوط وحدانی کا حصہ حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے اپنے قلم سے اضافہ فرمایا ہے (المؤلف) ۲۵۹ " مرکز احمدیت قادیان صفحه ۴۹-۵۱) مؤلفه شیخ محمود احمد عرفانی مرحوم مجاہد بلاد عربیه) ۲۲۰ - الحکم ۲۰/ اپریل ۱۹۰۲ء صفحه ۱۲-۱۳ بحوالہ تذکره طبع دوم صفحه ۴۳۳-۴۳۴- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہاں تک دکھایا گیا کہ قادیان کی آبادی دریائے بیاس تک پہنچ جائے گی ( الفضل ۱۴/ اگست ۱۹۲۸ء صفحہ ۶ - کالم سود تذکرہ طبع دوم صفحہ ۷۷۹) مگر اس کے ساتھ ہی آپ کو یہ بھی اطلاع دی گئی کہ اس قادیان کی اس پر رونق اور وسیع آبادی سے قبل قادیان کو ابتلاؤں کے ایک سلسلہ میں سے گذرنا پڑے گا۔مثلاً آپ کو دکھایا گیا قادیان آنے کا راستہ حضور پر بند ہے ( تذکرہ طبع دوم صفحہ ۴۳۶۳) الدار کے ارد گرد ایک دیوار کھینچی جارہی ہے جو فصیل شہر کے رنگ میں ہے (ایضا صفحہ ۴۴۰-۴۴۳) قادیان کے راہ میں سخت اندھیرا ہے مگر آپ ایک نہیں ہاتھ کی مدد سے کشمیری محلہ سے ہوتے ہوئے پہنچ گئے ہیں (ایضاً ۸۳۳-۸۳۴) اس سلسلہ میں حضور کو یہ الہام بھی ہوا کہ ان الذي فرض علیک القرآن لرادک الی معاد یعنی وہ قادر خدا جس نے تجھے پر قرآن فرض کیا پھر تجھے واپس لائے گا۔تریاق القلوب صفحه 4- تذکرہ طبع دوم صفحه ۳۱۳) ۲۶۱ الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۵ء صفحه ۱۲- بحوالہ تذکره صفحه ۵۳۴ ۲۶۲- تذکره طبع دوم صفحه ۷۸۰-۷۸۱-۸۰۹ ٢٦٣- الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۸ء صفحہ سے کالم ۲ ۲۶۴ سلسلہ احمدیہ " ( صفحہ ۳۹۹) طبع اول ۲۶۵۔یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ قبل ازیں آخر ۱۹۱۴ء میں گورداسپور سے بوٹاری تک لائن بچھانے کی تجویز بھی زیر غور آئی تھی اور حکومت نے اس کی پیمائش کی ابتدائی منظوری بھی دے دی تھی۔اور گویہ قطعی بات نہ تھی کہ یہ لائن قادیان سے ہو کر گذرے مگر درمیانی حصہ میں اہم ترین مقام قادیان ہی تھا اس لئے قرین قیاس یہی تھا کہ یہ قادیان کے راستہ سے بوٹاری تک پہنچے گی۔لیکن یہ تجویز ابتدائی مرحلہ پر ہی ملتوی ہو گئی اور تیرہ سال تک معرض التواء میں پڑ گئی اس بات کا علم بابو قریشی محمد عثمان احمد کی ہیڈ ڈرافٹسمین دفتر چیف انجینئر نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور کے ایک خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے ۸ / نومبر ۱۹۱۴ء کو حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نام لکھا تھا۔اور جو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں محفوظ ہے بابو صاحب نے اس خط میں لکھا۔"نئی لائنوں کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ منظوری گورنمنٹ کی تعمیر کے لئے نہیں بلکہ پیمائش کرنے کے لئے ہے چنانچہ اس کی پیمائش عنقریب شروع ہونے والی ہے پھر یہ خیال ہوا کہ جنب گورنمنٹ نے لائنوں کی لمبائی و غیر ودی ہے تو پیمائش ابتدائی کے نقشے دفتر میں ہوں گے۔حمر ابتدائی پیمائش ہی نہیں ہوئی صرف سرسری (Rangi لسبائی نقشہ سے ٹاپ لی گئی ہے اور اس کی منظوری دے دی گئی۔گورداسپور ڈسٹرکٹ کا نقشہ (map دیکھنے سے معلوم ہوا کہ قادیان اس لائن پر آتا ہے جو گورداسپور سے بوٹاری تک منظور ہوئی جس کی لمبائی قریبا ۳۷ میل ہوگی۔اگر یہ لائن گورداسپور سے سیدھی بوناری جاوے تو قادیان قریباً ساڑھے تین میل رہ جاتا ہے۔اگر قادیان ہی ہو کر جاوے تو مطلب حاصل ہے زیادہ قرینہ قوی اس بات کا ہے کہ لائن قادیان ہو کر گزرے کیونکہ اس کے گردو نواح میں قادیان سب سے بڑی جگہ ہے اور لائن منظور شدہ کی لمبائی (Miles 37 ہی اس وقت درست آتی ہے جبکہ لائن قادیان ہو کر گزرے۔اگر اس تجویز کے مطابق لائن بچھائی جاتی تو اس کا سرسری نقشہ حسب ذیل ہوتا: