تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 107 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال کا کئی بار تذکرہ آچکا ہے اور آئندہ بھی آئے گا۔یہاں مختصرا یہ بتانا مناسب ہو گا۔(۱) ضیغم احمدیت حضرت مولانا سید سرور شاه صاحب ۱۰ / تمبر ۱۸۷۳ء کو پیدا ہوئے۔۱۶ مارچ ۱۸۹۷ء سے قبل حضرت مسیح موعود کی بیعت کی اور اپریل۔مئی 1991ء میں مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے یکم مئی 1901 ء سے سلسلہ کی باقاعدہ ملازمت اختیار کی اور تعلیم الاسلام ہائی سکول اور پھر مدرسہ احمدیہ میں لیے عرصہ تک عظیم الشان تعلیمی و تربیتی خدمات بجالانے کے بعد جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بنے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " اصحاب احمد جلد ہ ہر سہ حصص مولفہ جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان دار الامان (۲) عبد الکریم معانی حضرت حافظ روشن علی صاحب کے سوانخ تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۶۸ او ۱۷۹ میں مندرج ہیں جامعہ احمدیہ میں منتقل ہونے سے قبل آپ جماعت مبلغین کے حکمران تھے۔(۳) حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلال پوری ۱۳/ اپریل ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے اور ۲۸/ جنوری ۱۹۰۹ء سے مستقل طور پر دیار حبیب میں آگئے۔یہاں حضرت خلیفتہ المسیح اول سے شرف تلمذ حاصل کیا۔آپ تفسیر، حدیث، فقہ ، منطق ، فلسفہ، صرف و نحو اور ادب عربی کے نہایت بلند پایہ عالم تھے۔اور حضرت مسیح موعود کی کتب و ملفوظات کے لو گویا حافظ تھے۔(۴) حضرت میر محمد اسحاق صاحب (خلف الصدق حضرت میر ناصر نواب صاحب (۸/ ستمبر ۱۸۹۰ء کو بمقام لدھیانہ پیدا ہوئے غالباً ۱۸۹۴ء کے بعد سے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔اور "الدار" میں قیام کا شرف حاصل ہوا۔بچپن سے ۱۸ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود کے روز و شب کے حالات مشاہدہ کئے اور آخر دم تک قریباً اسی طرح ذہن میں محفوظ رہے کئی سفروں میں ہمرکاب ہونے کا فخر حاصل کیا۔آخرمی بیماری کی ابتداء سے وصال تک حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کے پاس رہے حضور علیہ السلام نے متعدد مرتبہ آپ سے لوگوں کے مخطوط کے جوابات لکھوائے۔اور حقیقتہ الوحی کا مسودہ بھی۔حضور نے اپنی کتابوں میں بیسیوں دفعہ آپ کا ذکر فرمایا۔بہت سے نشانوں کے عینی گواہ اور مورد بھی تھے۔بے قاعدہ اور باقاعدہ طور پر حضرت خلیفتہ اصحیح اول حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل سے عربی علوم پڑھے 1917ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ۱۹۱۲ ء میں صدرانجمن کی ملازمت میں آئے۔جامعہ احمدیہ کے قیام سے قبل مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھے۔(رسالہ جامعہ احمد یہ سالنامہ صفحہ ۷۴) جامعہ میں آپ اپنے مفوضہ نصاب پڑھانے کے علاوہ ہمیشہ طلباء میں خاص اہتمام سے تقریر کا ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے جامعہ احمدیہ اور مہمان خانہ میں تقریر کراتے اور بیرونی مقامات میں جلسوں اور مناظروں میں لے جاتے جس سے ان میں تقریر کی غیر معمولی قوت پیدا ہو جاتی تھی۔۵۶ یاد رہے کہ اس جلد میں جامعہ احمدیہ سے متعلق حالات تقسیم ہندے ۱۹۴ء تک لکھے گئے ہیں بعد کے واقعات پاکستانی دور کی تاریخ یں جامعہ احمدیہ سے " میں آئیں گے۔۱۸۹۴-۵۷ء میں ممند قبیلہ کے ایک ممتاز گھرانے میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم پشاور کی بعض درسگاہوں میں پائی دریں اثناء صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب احمدی ساکن بازید خیل ضلع پشاور کے حلقہ درس میں آپ کو شمولیت کا موقعہ ملا۔اور آپ اسی اثر کے ماتحت مارچ ۱۹۱۰ء کے سالانہ جلسہ پر قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفہ اول کے دست مبارک پر بیعت کرلی ہے 19ء میں آپ نے مدرسہ احمدیہ سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جون ۱۹۱۸ء میں مدرسہ احمدیہ میں استاد مقرر ہوئے ۱۹۲۹ء میں ترقی پا کر جامعہ احمدیہ میں منتقل ہوئے اور تعلیمی و تربیتی فرائض ادا کرنے کے بعد ۱۹۴۹ ء میں بطور پروفیسر تعلیم الاسلام کالج میں منتقل ہوئے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ” جامعہ احمدیہ " سالنامہ نمبر صفحہ ۷۴ و اصحاب احمد جلد پنجم حصہ سوم صفحه ۴۹ تا ۵۵- ۵۸- کھیوا تحصیل چکوال ضلع جہلم آپ کی جائے پیدائش ہے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولوی عبد الرحمن صاحب اور جناب مولوی محمد خلیل الرحمن صاحب بھیروی اور مولوی فضل الہی صاحب سے پائی پھر چند سال مدرسہ احمدیہ میں دینیات کا علم حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب سے حاصل کیا۔معقولات سے متعلق علامہ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب سے شرف تلمذ حاصل کیا ۱۹۳۷ء میں بمقام شملہ قرآن مجید حفظ کیا اور حافظ و قاری محمد یوسف صاحب سہارنپوری کو سنایا۔۵۹۔یہ حضرت خلیفہ اول کے قابل شاگردوں میں سے ہیں " تسہیل العربیہ " کا عربی اردو حصہ) اور ترجمہ "مفردات امام راغب"