تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 109
105 خلافت ماشیہ کا پندرھواں سے تاریخ احمدیت۔جلد ۵ ایک تقریر سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے ایک تبلیغی کا نفرنس میں کی۔اخبار تیج (دہلی) کا نامہ نگار لکھتا ہے۔" آپ تقریر کر رہے تھے جس میں آپ نے سائمن کمیشن کے مقاطعہ کا دو مرتبہ تذکرہ کیا۔اور دونوں مرتبہ صدر نے آپ کو ٹو کا آپ سے کہا گیا کہ تبلیغی کا نفرنس کا سیاسیات سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس پر مولانا نے طنزا کہا کہ ایک غلام ملک میں کوئی تبلیغ نہیں ہو سکتی ہے صاحب صدر نے دوسری مرتبہ مداخلت کی تو مولانا نے حاضرین سے درخواست کی کہ وہ پنڈال کو خالی کردیں " اخبار "انقلاب" نے اس رپورٹ پر پر لکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزی حکومت کے تسلط کے بعد سے اب تک تبلیغ کی جتنی انجمنیں بنیں اور انہوں نے جو کام کیا وہ از سر تا پا غلط تھا۔مولانا محی الدین احمد قصوری اور مولانا محمد عبد اللہ صاحب کی جمعیت دعوۃ کو تبلیغ عبث ہے مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے کینٹ تاجر چرم بمبئی نے اپنی کمائی میں سے جو ستر اسی ہزار روپیہ اس کام پر صرف کیا وہ بالکل لا حاصل ضائع ہوا۔میر غلام بھیک صاحب نیرنگ گذشتہ چار پانچ سال سے جو محنت و مشقت برداشت کرتے رہے اور کر رہے ہیں وہ بیکار تھی اس لئے کہ یہ سب کچھ ایک غلام ملک میں ہوا۔پھر قادیانی احمدیوں کی انجمن لاہوری احمدیوں کی انجمن دوسری صد ہا تبلیغی انجمنیں خواجہ کمال الدین ورکنگ مشن غرض تمام ادارے اور نظام فضول تھے۔فضول ہیں اور انہیں جلد سے جلد بند کر دینا چاہئے۔(انقلاب ۲۶ فروری ۱۹۲۸ء صفحه (۳) عبد المجید سالک " سرگزشت" میں لکھتے ہیں۔اس مقاطعہ کو موثر بنانے کے لئے کانگریس کی پوری مشینری حرکت میں آگئی۔انقلاب کا رویہ یہ تھا کہ سائمن کمیشن سے مقاطعہ بالکل مناسب ہے "۔( صفحہ ۲۴۷) ۱۴ بحواله الفضل ۱۰ / فروری ۱۹۲۸ء صفحہ ۴ کالم امزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۴ / فروری ۱۹۲۸ء صفحہ ۳۔۴) ۱۵ ايضا "سرگزشت "صفحه ۲۴۹ بحواله الفضل ۹/ نومبر ۱۹۲۸ء صفحه ا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس حق تلفی پر الفضل ۲۹ مئی ۱۹۲۸ء میں ایک اہم مضمون بھی سپرد قلم فرمایا تھا۔اور مسلمانوں کو اس کے تدارک کے لئے قیمتی مشورے دیتے تھے جسے اخبار انقلاب نے بھی ۱۲ جون ۱۹۲۸ء کو شائع کیا۔حضور نے تجویز پیش فرمائی تھی کہ اس صورت حال پر غور کرنے کے لئے مختلف الخیال لوگوں کا ایک جلسہ کیا جائے جس میں کو نسل اور مقتدر اسلامی اخبارات کے نمائندے بھی شامل ہوں۔اخبار انقلاب (۸/ جون ۱۹۳۸ء) نے اس سے اتفاق رائے کرتے ہوئے لکھا۔" مرزا صاحب کو چاہئے کہ وہ خود اپنے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر ایسا جلسہ جلد سے جلد منعقد کرنے کی سعی فرمائیں"۔١٩ الفضل ۲۹/ جون ۱۹۲۹ء صفحه ۳ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء صفحه ۱ الفضل ۲۳ / مارچ ۱۹۲۸ء صف صفحها ۲۲ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸۴ء صفحه ۲۹۹ ٢٣۔الفضل ۱۷ / فروری ۱۹۲۸ء صفحه ۵-۶ ۲۴ اخبار " تنظیم (امرت سر ۲۸ فروری ۱۹۳۸ء بحواله الفضل ۸/ مئی ۱۹۲۸ء صفحه ۸ ۲۵- "فرقان" دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۵۵ مضمون مولوی عبد المالک خان صاحب مربی سلسلہ احمدیہ مقیم کراچی) ۰۲۶ رپورت مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء صفحه ۲۲۹ ۲۷۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء صفحه ۲۵۳ ۲۸ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۲۵۴۰۲۵۳ الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۲۸ء صفحه ۹ ۳۰ سورة نورخ ۴ آیت ۳۱ اخبار " مصباح ( قادیان) یکم اپریل ۱۹۲۸ء صفحه ۱۵-۱۶ ۳۲۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۶ / جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۵۰۴ " الفضل " الجولائی ۱۹۳۸ء صفحہ ۷)