تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 85 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 85

تاریخ احمدیت۔جلدن 81 خلافت ثانیہ کا بندر ہوں کہ کنوینشن کو مسلم مطالبات پر نہایت فراخ دلی سے غور کرنا چاہئے تھا بجائے اس کے وہ ہندو مہاسبھا کے زیر اثر اور اس کی دھمکی میں آکر یہ صورت اختیار کرتا۔میں یہ امر ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ کے نمائندوں کی اکثریت کنوینشن کے اجلاس میں شریک ہوئی تھی۔اور جنہوں نے مسلمانوں کے جائز مطالبات کو پیش کیا تھا۔نہرو رپورٹ کے حامیوں میں سے تھے اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف اپنی ملت کے ساتھ جنگ کی بلکہ اپنی جماعت (مسلم لیگ) محض نہرو رپورٹ کی تائید کرنے کے سلسلہ میں برائی حاصل کی۔اگر کنوینشن ان ۳۳ منتخب نمائندوں کے ساتھ کسی امر پر گفتگو کرنے سے قاصر ہے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہندوستان کے کسی مسلمان سے بھی فیصلہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔اگر ان ۳۳ نمائندوں کو فرقہ پرست سمجھ کر ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا گیا تو سمجھ لو کہ ہندوستان میں ایک بھی مسلم قوم پر در موجود نہیں " اس صورت حال کے بعد مسٹر محمد علی جناح کانگریس اور اس کے لیڈروں سے بالکل دل برداشتہ ہو گئے اور آخر مسلم لیگ نے بھی ۳۰ / مارچ ۱۹۲۹ء کو روشن تھیٹر دہلی میں مسٹر جناح کی زیر صدارت یہ فیصلہ کیا کہ "چونکہ پنڈت نہرو نے مسلم لیگ کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے لہذا مسلم لیگ بھی نہرو رپورٹ منظور کرنے سے قاصر ہے "۔کلکتہ کنوینشن میں جہاں مسلم لیگی نمائندے نہرو رپورٹ کے حامی کی صورت میں آئے وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ( ناظر امور خارجہ نمائندہ جماعت احمدیہ ) نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ہم نہرو رپورٹ کے مخالف ہیں اور اس کے خلاف ہمارے رسالے اور مضامین شائع ہوئے لیکچر دیے گئے ، مجالس قائم کی گئیں مگر اس کے باوجود ہم نے کنوینشن کی دعوت قبول کی اور اس میں شامل ہوئے کیونکہ ہم بائیکاٹ کے قائل نہیں ہماری رائے ہے کہ سب سے ملنا چاہئے پھر خواہ ہماری بات تسلیم ہو۔یا رد کر دی جائے لیکن سب کے خیالات کو سن لینا ضروری ہے۔نہرو رپورٹ میں ترمیم کے لئے احمدی نمائندہ نے دس ریزولیوشن پیش کئے جن کو ایجنڈا میں شائع کیا گیا اور وہ سب اپنے اپنے موقعہ پر پیش ہوئے اور ان کے موافق و مخالف تقریر میں بھی ہو ئیں لیکن جس کنوینشن میں مسلم لیگی مطالبات کو کانگریسی زہنیت کے سامنے شکست اٹھانا پڑی وہاں احمدی نمائندے کیونکر کامیاب ہو سکتے تھے۔تاہم یہ فائدہ ضرور ہوا کہ کنوینشن کے سب حلقوں کے سامنے جماعت احمدیہ کے سیاسی خیالات خوب واضح ہو گئے۔۲۴۸ کانگریس کی منعقدہ کنوینشن میں آل انڈیا مسلم کانفرنس دہلی اور نہرو رپورٹ مسلم مطالبات کی پامالی دیکھ کر