تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 83
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 79 خلافت عثمانیہ کا پندر مولانا محمد علی صاحب جو ہر کا یہ موقف کہاں تک درست تھا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے محمد مرزا دہلوی لکھتے ہیں۔کانگریس نے آزادی کامل کا عقیدہ قبول کرلینے کے بعد بھی حکومت سے نہرو رپورٹ کے ذریعہ جس طرز حکومت کا مطالبہ کیا تھا اور اس کی جو تاویل صاحب رپورٹ نے کانگریس کے اجلاس میں پیش کی تھی وہ یہ تھی کہ عقیدہ تو بے شک ہمارا آزادی کامل ہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لئے ابتدائی سیڑھیاں بھی ہمیں طے کرنے کی ضرورت ہے اور نہرو رپورٹ ان ابتدائی سیڑھیوں میں سے ایک ہے اس تاویل کے صاف معنی یہ ہیں کہ کانگریس نے آزادی کامل کا عقیدہ تو قبول کر لیا ہے لیکن ملک ابھی اس کے لئے تیار نہیں ہے۔اور فی الحقیقت اس وقت کے حالات کے اعتبار سے یہ بہت صحیح رائے تھی لیکن بعض انتہا پسند اور جوشیلے افراد جن میں ہندو کم اور مسلمان زیادہ تھے کانگریس کے ساتھ محض اس لئے ہو گئے تھے کہ آزادی کامل اس کا مطمح نظر ہے اور اس کی سیاسی جدوجہد کا مفہوم صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ کسی طرح ملک سے بدیشی حکومت کو نکال باہر کرے حالانکہ بدیشی حکومت کو فی الفور ہندوستان سے باہر کر دینے کا اس وقت تک کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔جب تک ہندوستانی حکومت کے ہر شعبہ کو چلانے اور بیرونی حملوں سے ملک کی مدافعت کرنے کے قابل نہ ہو جائیں اور یہ قابلیت ان میں سیاسی بصیرت اور متواتر تجربوں ہی سے آسکتی تھی۔اور اس قسم کا موقع انہیں اس وقت مل سکتا تھا جب ہندوستان کی ساری قومیں اس پر متحد ہو جائیں"۔یہ ضمنی بحث ختم کر کے ہم پہلے مضمون کی طرف آتے ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ مولانا محمد علی صاحب جو ہر درجہ نو آبادیات سے متعلق ابتدائی بحث ہی میں کنوینشن سے اٹھ کر چلے آئے تھے۔جس پر بعد کو بڑی شد و مد سے تنقید کی گئی۔کہ انہیں کنوینشن میں اپنے مطالبات پیش ضرور کرنے چاہئے تھے۔اگر وہ ایسا کرتے تو بہت بڑی امید تھی کہ مطالبات منظور ہو جاتے اور یہ اختلاف و افتراق و ہیں ختم ہو جاتا۔مگر چونکہ انہوں نے دوبارہ شرکت نہیں کی اس لئے اختلاف کی خلیج اور زیادہ وسیع ہوتی گئی۔ان کے سیرت نگار سید رئیس احمد صاحب جعفری نے اس اعتراض کا خاص طور پر ذکر کر کے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ بادی النظر میں یہ اعتراض وزنی معلوم ہوتا ہے لیکن یہ تامل خفیف یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ محمد علی نے جو کچھ کیا وہی اچھا تھا ڈومینین اسٹیٹس میں ان کے ساتھ جو طرز عمل اختیار کیا گیا وہ ایسا نہیں تھا کہ کوئی خوشگوار امید قائم کرنے میں مدد دیتا۔اس کے علاوہ اختلافات کے آغاز سے اس وقت تک ہندو زعماء کا جو بے نیا ز انہ طرز عمل ہو گیا تھا۔وہ بھی ایک خود دار اور شریف آدمی کو " طواف کوئے ملامت " کی اجازت نہیں دے سکتا تھا"۔کنوینشن سے بائیکاٹ کی یہ دونوں وجوہ کس درجہ معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہیں اس کا فیصلہ