تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 75 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 75

تاریخ احمدیت - بلد ۵ 71 خلافت عثمانیہ کا بندر چهارم : انگلستان کی رائے عامہ پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تا اسے معلوم ہو کہ نہرورپورٹ لکھنے والے فرقہ وارانہ تعصب سے بالا نہیں رہ سکے۔حضور نے یہ بھی وعدہ فرمایا کہ " میں اور احمد یہ جماعت اس معاملہ میں باقی تمام مسلمان فرقوں کے ساتھ مل کر ہر قسم کی جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں اور میں احمدیہ جماعت کے وسیع اور مضبوط نظام کو اس اسلامی کام کی اعانت کے لئے تمام جائز صورتوں میں لگا دینے کا وعدہ کرتا ہوں"۔a تبصرہ کی وسیع اشاعت اور مقبولیت حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالی کا یہ بے نظیر تبصرہ "مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ" کے ۲۲۴ نام سے معا بعد کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا اور کلکتہ اور دہلی میں (جو ان دنوں سیاسی سرگرمیوں کے مرکز تھے اور جہاں کانگریس ، مسلم لیگ ، مجلس خلافت اور دوسری جماعتوں کے اجلاس منعقد ہو رہے تھے ) اس کی خاص طور پر اشاعت کی گئی۔حضور کی اس بروقت رہنمائی سے مسلمانوں کے اونچے طبقے بہت ممنون ہوئے اور مسلمانوں کے سیاسی حلقوں میں اسے نہایت پسند کیا گیا۔اور بڑے بڑے مسلم لیڈروں نے تعریفی الفاظ میں اسے سراہا اور شکریہ ادا کیا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کی نہایت ضرورت کے وقت دستگیری کی ہے۔چنانچہ کئی اصحاب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے کہا کہ ”اصلی اور عملی کام تو آپ کی جماعت ہی کر رہی ہے اور جو تنظیم آپ کی جماعت میں ہے وہ اور کہیں نہیں دیکھی جاتی"۔کلکتہ کے مخلص احمدی مسٹر دولت احمد خاں صاحب بی۔اے ایل ایل بی جائنٹ ایڈیٹر اخبار "سلطان" نے تبصرہ کو بنگالی میں ترجمہ کر کے اور ایک چھوٹی سی خوبصورت کتاب کی شکل میں ترتیب دے کر شائع کیا اور اہل بنگال میں اس کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ایک معزز تعلیم یافتہ غیر احمدی نہرو رپورٹ پر تبصرہ کا مطالعہ کرنے کے بعد اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے سیکرٹری ترقی اسلام کے نام ایک خط میں لکھا۔" میری طبیعت بہت چاہتی ہے کہ حضرت خلیفہ صاحب کو دیکھوں اور ان کی زیارت کروں۔کیونکہ میرے دل میں ان کی بہت وقعت۔۔۔۔۔آپ براہ مہربانی حضرت صاحب کی خدمت میں اس احقر کا سلام عرض کر دیجئے اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ ایک خادم کی طرف سے مبارکباد منظور فرما ئیں کہ آپ نہایت خوش اسلوبی سے ایسے خطر ناک حالات میں جن سے اسلام اس وقت گزر رہا ہے اس کو بچارہے ہیں اور نہ صرف مذہبی خبر گیری کر رہے ہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی مسلمانوں کی رہنمائی فرما رہے ہیں۔میں نے جناب والا کے خیالات کو نہرو رپورٹ کے متعلق پڑھا جس نے آپ کی وقعت کو میری آنکھوں میں اور بھی بڑھا دیا۔اور میں جہاں آپ کو ایک زبردست مذہبی عالم سمجھتا ہوں اس کے ساتھ ہی ایک ماہر سیاست دان بھی سمجھنے لگا