تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 340 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 340

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ حصہ دوم پہلا باب (فصل پنجم) 336 اسرائیلی قبائل کا کشمیر میں داخلہ تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پانچویں صدی قبل مسیح سے تیسری صدی قبل مسیح کا دور تاریخ کشمیر کا نہایت اہم اور قابل ذکر دور ہے کیونکہ اسی زمانے میں خطہ کشمیر کے طول و عرض پر مستقل اور منظم آبادی کا آغاز ہوا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی حکومت دو حصوں میں بٹ گئی۔تاریخ میں ایک حصہ کو سلطنت اسرائیل کہتے ہیں اور دوسرے کو سلطنت یهودو یہ سلطنت اسرائیل سرغوں کے ہاتھوں ۷۲۲ ق م میں ختم ہو گئی اور سولہ سترہ سال میں ہزاروں یہود جلا وطن ہو گئے۔اس کے قریبا ڈیڑھ دو سو سال بعد بخت نصر نے سلطنت یہودیہ پر (جس کا دار السلطنت یروشلم تھا) چڑھائی کر کے ۵۸۶ ق م میں اس کا تختہ الٹ دیا۔سیر و علم تباہ و برباد اور تاخت و تاراج کر دیا گیا۔اور اسرائیلی قبائل عراق فارس میدیا اور دو سرے علاقوں میں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ولیم ایم لینگر کی تحقیق کے مطابق ۵۸۶ ق م سے ۵۳۸ ق م تک یہودی عراق کے ماتحت اور ۵۳۸ ق م سے ۳۳۲ ق م تک۔۔۔ایرانی حکومت کے ماتحت رہے آخر خورس نے انہیں یروشلم میں ہیکل از سرنو تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔نمیاہ نبی نے یروشلم کی فصیلیں بنا ئیں اور شرعی قانون نافذ کئے۔حالات کے سازگار ہونے پر بعض اسرائیلی قبائل اپنے وطن کو لوٹ آئے۔مگر یقیہ دس قبائل پر اسرار طریق پر غائب ہو گئے۔مختصر تاریخ بائیبل (Manual of Bible History) کے مصنف مسٹر بلی کی ان گمشدہ قبیلوں کی نسبت یہ قیاس آرائی کرتے ہیں۔" یہ بات کہ آخر کار ان دس فرقوں کی کیا حالت ہوئی ایک ایسا تاریخی مسئلہ ہے جو اب تک حل نہیں ہوا بعض کا گمان ہے۔کہ وہ ایشیاء میں ملک ترکی کے نسطوری فرقے کے عیسائیوں میں شامل ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ہند کے افغانوں میں ملتے ہیں اور بعض کا یہ خیال ہے کہ وہ بہت دور دور جگہوں کو چلے گئے ہیں "۔مسٹر بلیکی جس " تاریخی مسئلہ " کو لانخل قرار دیتے تھے۔کوئی سربستہ راز نہیں رہا۔بلکہ تحقیق کی روشنی میں یہ حقیقت ناقابل تردید شواہد و دلائل کے ذریعہ سے ثابت ہو چکی ہے کہ یہ دس گم شدہ اسرائیلی قبائل قطعی طور پر افغانستان اور کشمیر