تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 68
60 سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع حمل ال خلافت حجرہ میں جانے کے لئے دروازہ کی جانب اترنے والی سیڑھی کے پاس اگر کھڑے ہو گئے۔حضرت اماں جان پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔میں حضرت مسیح موعود کے پیچھے ساتھ ساتھ چلی آئی تھی اور پیچھے کھڑی ہو گئی آپ کی پیٹھ کی جانب بالکل قریب۔اس وقت آپ نے جیسے سیدھے کھڑے تھے اسی طرح بغیر گردن موڑے کلام کیا۔مگر ظا ہر حضرت اماں جان سے ہی مخاطب معلوم ہوتے تھے۔فرمایا۔کبھی تو ہمارا دل چاہتا ہے کہ محمود کی خلافت کی بابت ان لوگوں کو بتا دیں پھر میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالی کا نشاء اپنے وقت میں خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔اسی ترتیب سے پہلے فقرہ میں ”ہمارا کیا دوسرے میں " میں " فرمایا اور غیر محسوس وقفہ سے یہ دوسرا فقرہ ادا فرمایا۔مجھے قسم ہے اپنے مالک و خالق ازلی و ابدی خدا کی جس کے حضور میں نے بھی اور سب نے حاضر ہوتا ہے اور وہی میرا شاہد ہے۔میرا حاضر و ناظر خدا جس کے پاس اب میرے جانے کا وقت قریب ہے کہ یہ سچ اور بالکل حق ہے کہ ان الفاظ میں ذرا بھی فرق نہیں۔مجھے ایک ایک لفظ ٹھیک یاد رہا۔اور ایسا کچھ خدا تعالی کے تصرف سے میرے دماغ پر نقش ہوا اور دل پر رکھا گیا کہ میں بھول نہیں سکی۔اس وقت بھی وہاں آپ کا کھڑا ہونا پیش نظر ہے۔آپ کی آواز اسی طرح میرے کانوں میں آرہی ہے۔اسی طرح گویا میری چشم تصور آپ کو دیکھ رہی ہے۔جیسے آج کی بلکہ ابھی کی بات ہو۔پہلے یہ بھی مجھے خیال رہتا تھا کہ میں آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے جو چلی آئی تو شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میں سن رہی ہوں مگر ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ آپ نے میری آہٹ پالی ہو۔میری چاپ پہچان لی ہو۔کیونکہ اکثر آپ کے ساتھ ساتھ چل پڑا کرتی تھی۔اور یوں بھی میں قریباً آپ کی پشت مبارک کے ساتھ ہی تو لگی کھڑی تھی۔آپ کی آواز یہ الفاظ۔یہ دونوں مندرجہ بالا فقرے بولتے ہوئے سرسری سی نہ تھے بلکہ بڑے ٹھراؤ سے بڑے وقار و سنجیدگی سے آپ نے یہ بات کی۔اور خصوصا دو سرا فقرہ جب آپ نے بولا تو معلوم ہو تا تھا بہت دور کہیں دیکھ کر ایک عجیب سے رنگ میں یہ الفاظ آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں۔اس طرح آپ نے یہ فقرے ادا کئے جیسے اپنے آپ سے کوئی بات کر رہا ہو۔مگر ویسے میں یہی سمجھ رہی تھی کہ حضرت اماں جان سے آپ مخاطب ہیں۔اس بات کی بناء پر مجھے ہمیشہ سے یقین رہا اور ہے کہ خلافت محمود کے متعلق آپ کو خداتعالی کی طرف سے علم ہو چکا تھا " 2 مجلس " تشعیذ الاذہان کا احیاء مجلس " شمعید الاذہان کی سرگرمیاں ایک عرصہ تک تیزی سے جاری رہنے کے بعد رفتہ رفتہ کم ہوتی گئیں یہاں تک کہ انجمن قریباً معطل ہو کر رہ گئی تھی۔کہ دسمبر ۱۹۰۵ء میں بفضلہ تعالٰی حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد