تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 549 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 549

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 514 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال مسلک کی تائید کرتے ہوئے لکھا۔ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ صورت موجودہ میں سنگسار کرنے کا حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں نہ کتب فقہ حنفیہ میں نہ شافعیہ وغیرہ میں اگر اس کا نام سیاسی حکم رکھا جائے تو ہمیں اس پر بحث نہیں“۔اس کے بعد آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالی اور لکھا۔نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان میں جو کسی مرزائی کو محض مرزائی ہونے کی وجہ سے (اگر یہ صحیح ہے) سنگسار کیا گیا ہے تو قرآن، حدیث اور کتب فقہ میں اس کا ثبوت نہیں اس لئے یہ سزا نہ حد ہے نہ تعزیز ہاں اگر کچھ ہو سکتا ہے تو باصطلاح افاغنہ سیاسی حکم ہے دگر بیچ " جماعت احمدیہ کی بار بار وضاحتوں اور مسئله وقتل مرتد اور اسلام پر سلسلہ مضامین جناب محمد علی صاحب جو ہر اور جناب عبد الماجد صاحب د ریا آبادی کے قابل قدر علمی مضامین کے باوجود غیر مسلموں کی طرف سے اسلام کو برابر بد نام کیا جا رہا تھا۔چنانچہ آریوں کے با اثر اخبار " پر کاش " لاہور (۷ / مارچ ۱۹۲۵ء) نے لکھا۔قادیانیوں کا تعصب مذہبی ملاحظہ ہو۔کہ عین اسی وقت جبکہ وہ حکومت افغانستان کے اس سنگدلانہ فعل کے برخلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں اس عنوان سے اپنے اخبار میں مضامین کی اشاعت میں بھی مشغول ہیں کہ اسلام منوانے کے لئے کبھی تلوار نہیں چلائی گئی۔کوئی ان بھلے آدمیوں سے پوچھے کہ اگر اسلام منوانے کے لئے کبھی تلوار نہیں چلائی گئی تو کیا نعمت اللہ پر پھول برسائے گئے تھے۔یا اس کی اور اس کے بعد دو اور احمدیوں کی لاشیں ابھی تک پھولوں کے ڈھیر میں دبی پڑی ہیں۔۔۔ضرور ہے کہ نعمت اللہ اور دیگر احمدیوں کو تلوار نہیں پتھروں کی مار سے مارا گیا ہے۔لیکن پتھر کی مار تلوار کی مار سے بلاشبہ زیادہ سنگدلانہ ہے "۔اس خطر ناک طعن و تشنیع کا دروازہ بند کرنے کی واحد صورت یہی تھی کہ سابقہ مضامین پر اکتفانہ کرتے ہوئے مسئلہ قتل مرتد پر اسلامی نقطہ نگاہ سے میر حاصل روشنی ڈالی جائے تا اسلام کا مقدس چہرہ اس بد نما داغ سے پوری طرح صاف و شفاف ہو کر غیر مسلموں کے سامنے آجائے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اس اہم خدمت کے لئے مقرر فرمایا۔جنہوں نے حضور کی ہدایت اور نگرانی کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مکرم مولوی فضل الدین صاحب وکیل مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مکرم مولوی غلام احمد صاحب بد و طہوی کی اعانت سے اس مسئلہ کے ہر پہلو پر زبر دست تحقیق کی اور اس سلسلہ میں قرآن مجید احادیث نبوی اور اقوال فقہاء پر نہایت گہری اور باریک نظر ڈال کر ایسے مدلل