تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 550
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 515 خلافت متین اور زور دار رنگ میں اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھایا کہ اپنوں اور بے گانوں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں ہی کا ازالہ نہیں ہوا بلکہ اسلام کا مذہب امن و صلح ہونا بھی پورے طور پر عیاں ہو گیا۔یہ مضمون الفضل ۱۹۲۵ء میں پہلے باقساط چھپا پھر اگلے سال ”قتل مرتد اور اسلام" کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔یہ اسی عظیم الشان تصنیف کا اثر ہے کہ مولوی ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر اخبار ”زمیندار کو ( جنہوں نے اس مسئلہ کی تائید میں اہل دیو بند کے بعد پنجاب میں سب سے زیادہ مضامین شائع کئے تھے ) بالآخر اپنے اخبار ”زمیندار“ میں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اس دین کی اصل محکم جس کا نام اسلام ہے یہ دین کمال کو پہنچا اور نعمت پوری ہو چکی اس قرآن کریم میں مجرم ارتداد کی کوئی جسمانی سزا نہیں بتائی گئی"۔تحریک چندہ خاص حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۰/ فروری ۱۹۲۵ء کو "$ مخلصین جماعت کو ایک لاکھ روپیہ کی خاص چندہ کی تحریک فرمائی۔اس تحریک کا پس منظر حضور کے الفاظ میں یہ تھا۔میری صحت متواتر بیماریوں سے جو تبلیغ ولایت کے متعلق تصانیف اور دوران سفر کے متواتر کام کے نتیجہ میں پیدا ہو ئیں بالکل ٹوٹ چکی ہے۔اور غموں اور صدموں نے میرے جسم کو ذکریا علیہ السلام کی طرح کھو کھلا کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر کبھی بھی میرا جسم راحت اور آرام کا مستحق اور میرا دل اطمینان کا محتاج تھا تو وہ یہ وقت ہے لیکن صحت کی کمزوری ، جانی اور مالی ابتلاؤں کے باوجود بجائے آرام ملنے کے میری جان اور بھی زیادہ بوجھوں کے نیچے دبی جارہی ہے۔کیونکہ سفر مغرب کی وجہ سے اور اشاعت کتب کی غرض سے جو روپیہ قرض لیا گیا تھا اس کی ادائیگی کا وقت سر پر ہے بلکہ شروع ہو چکا ہے اور بیت المال کا یہ حال ہے کہ قرضہ کی ادائیگی تو الگ رہی کارکنوں کی تنخواہیں ہی تین تین ماہ کی واجب الادا ہیں۔پس یہ غم مجھ پر مزید بر آں پڑ گیا ہے کہ قرضہ ادانہ ہونے کی صورت میں ہم پر نادہندگی اور وعدہ خلافی کا الزام نہ آئے اور اسی طرح وہ لوگ جو باہر کی اچھی ملازمتوں کو ترک کر کے قادیان میں خدمت دین کے لئے بیٹھے ہیں ان کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھنا اور ان کو ان کی ان تھک خدمات کے بعد قوت لایموت کے لئے بھی روپیہ نہ دے سکتا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہے تیسرا صدمہ مجھے یہ ہے کہ اس قدر تکالیف برداشت کر کے جو سفر اختیار کیا گیا تھا اس کے اثرات کو دیر پا اور وسیع کرنے کے لئے ضروری تھا کہ فورا تجربہ کے ماتحت شام اور انگلستان میں تبلیغ کا راستہ کھولا جاتا۔مگر مالی تنگی کی وجہ سے اس کام کو شروع نہیں کیا جا سکتا اور سب محنت کے برباد ہونے کا خطرہ ہے۔ان صدمات کے بعد جو میری صحت اور جسم کو پہنچے ہیں اور جو اپنی ذات میں ہی ایک انسان کو