تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 344 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 344

احمدیت۔جلد ۴ 336 خلافت ؟ جو لوگ کام پر لگائے جاویں ان کو ایک کاپی مطبوعہ ہدایات کی رجسٹری رسید لے کر دی جائے اور اس پر ایک نمبر لکھ دیا جائے جب وہ شخص واپس جائے تو اس سے وہ کاپی لے کر دو سرے کو دے دی جائے نمبر وہی رہنے دیا جائے مگر دستخط دو سرے آدمی کے جسے دوبارہ دی گئی ہے کے لے لئے جاویں اس سے کاپیاں محفوظ رکھنے کا خیال لوگوں کے دل میں رہے گا۔-۱۲ چاہئے کہ سب کارکنوں کو آریہ مذہب کے خلاف مسائل مختصر اعمدگی سے سمجھا دیے جاویں اور ان کے موٹے موٹے اعتراضات کے جواب بھی تاکہ اگر کوئی ان کا مبلغ مل جائے اور اس سے مجبور ابات کرنی پڑے تو سیکی اور شرمندگی۔۔۔۔۔افسروں کو خاص توجہ رکھنی چاہئے کہ جن کے جو کام سپرد کیا گیا ہے وہی کام کرتے رہے ہیں ایسا تو نہیں کہ جسے مثلاً خفیہ خبر رسانی پر لگایا گیا تھا وہ بحث میں لگ گیا ہے اور بحث والا خفیہ خبر رسانی پر۔بے شک زائد وقت میں اگر ان کو اجازت مل جاوے تو دو سرا کام بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میلان طبیعت کے ماتحت وہ اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ جاویں۔افسروں کو چاہئے کہ خاص طور پر طبائع کے میلان کا خیال رکھیں میلان طبع کا خیال نہ رکھنے سے بہت دفعہ کام خراب ہو جاتا ہے۔جو شخص جس کام کے اہل ہو اسے وہی کام سپرد کیا جائے دو سرا کام سپرد نہ کیا جائے۔اور اگر بعد کے تجربہ سے پہلا خیال غلط معلوم ہو تو پھر مناسب تبدیلی کردی جائے۔-۱۵ چاہئے کہ حلقوں کے افسردہ ایسے لوگوں کو مقرر کرے کہ جنہوں نے مستقل طور پر کام کرتا ہے۔دوسرے لوگ خواہ درجہ میں بڑے ہوں علم میں زیادہ ہوں ان کو مستقل کام کرنے والوں کے ماتحت رکھنا چاہئے ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔کام کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔افسر اعلیٰ افسران حلقه ایسے لوگ مقرر ہوں جو ہندی اور آریہ مذہب کا علم رکھتے ہوں اگر نہ ہوں تو صرف مرکز میں رکھے جاویں درنہ ہو سکے تو فی حلقہ ایک آدمی مقرر کر دیا جائے یا ضروری حلقوں میں ایک آدمی رکھا جائے۔یہ لوگ آریوں کے خلاف سامان بہم پہنچادیں۔۲۔آریوں سناتنیوں ، جینیوں اور سکھوں میں جو اختلاف عقیدہ اور عمل میں ہے اس کو جمع کر کے مبلغوں کو سکھاویں۔۳۔تاریخی طور پر برہمنوں نے راجپوتوں پر جو ظلم کئے ہیں ان کو جمع کریں خواہ عملاً ظلم کیا ہو خواہ ایسے