تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 483
تاریخ احمدیت جلد ۴ 459 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال لندن میں سب سے پہلی مسجد کی بنیاد رکھی جا چکی تو مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے بلند آواز سے حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک تار پڑھ کر سنایا جو انہوں نے جماعت احمدیہ ہندوستان کی طرف سے اس تقریب پر مبارک باد کا بھیجا تھا۔اس کے بعد حضور نے لمبی دعا کی۔پھر عصر کی نماز اسی مقام پر پڑھی اور حضور نے اعلان فرمایا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ اس مسجد کا با قاعدہ سنگ بنیاد رکھا گیا۔اس تقریب کے فوٹو اور فلم ایک درجن کے قریب فوٹو گرافروں اور سینما والوں نے لئے۔نماز کے بعد مبارکباد کی آواز ہر طرف بلند ہوئی اور مسجد کے محراب پر ایک جھنڈا لہرایا گیا جو حیدر آباد کے ہوم سیکرٹری نواب اکبر نواز جنگ صاحب نے دیا تھا۔اس کے بعد پورا مجمع خیمہ کی طرف چائے نوشی کے لئے آیا۔اس مجمع میں مختلف قوموں کے ممتاز آدمی شامل تھے۔مثلا انگریز، جرمن، سروین، ہنگری، زیکوسلواکیا، لیتھونیا، مصری، اٹالین، جاپانی اور ہندوستان کے رہنے والے نیز مختلف مذاہب کے لوگ عیسائی ، مسلمان ، پارسی اور یہود بھی تھے۔اگر چہ بارش کا دن تھا پھر بھی دو سو سے زیادہ معززین اس تقریب میں شامل ہوئے جن میں انگریزوں کے علاوہ دوسری حکومتوں کے نمائندے بھی موجود تھے جن میں جرمن سفیر، لیتھونیا اور سردیا کے وزیر، زنیکو سلوا کیا کا نمائندہ، ترکی، البانیہ اور فن لینڈ کے وزراء نے بذریعہ خطوط اچھی خواہشوں کا اظہار کیا۔وزیر اعظم انگلستان نے امام مسجد لنڈن اور جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا۔افسوس میں اس دن لنڈن میں نہیں ہوں گا۔اس تقریب پر آنے والے مہمانوں کو ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ وہ بہت دیر تک اس جگہ ٹھرے رہے اور سلسلہ کے متعلق اپنی دلچسپی ظاہر کرتے رہے۔ورڈزورتھ کے میٹر نے کہا کہ کوئی مذہب جسے اس تقریر کے کسی حصہ پر بھی اعتراض ہو۔مذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا اور لکھنے والا فرشتہ اس کو دوام کی سیاہی میں ڈبوئی ہوئی قلمون کے ساتھ لکھے گا۔زیکو سلوا کیا کے نمائندہ نے کہا کہ مجھے نہایت ہی خوشی ہے کہ مجھے ایسے خیالات پہلی دفعہ سننے کا موقعہ ملا ہے۔مسجد کے سنگ بنیاد پر بہت سے انگریزی اخباروں نے نوٹ لکھے جن میں سے صرف دو بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔”ڈیلی کرانیکل " نے لکھا۔"ہر ولی نس (یعنی تقدس مآب - ناقل ) خلیفہ المسیح نے جو اسلام کے فرقہ احمدیہ کے امام ہیں۔کل ۱۹ اکتوبر کو میلروز روڈ ساؤتھ فیلڈ ز میں لنڈن کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اس اصلاحی تحریک کے پیرو لندن میں ایک سوا در مشرق و افریقہ میں دس لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔فی الحال یہ ارادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مسجد کے صرف ایک حصہ کو مکمل کیا جائے اور اس حصہ کی تعمیر کے لئے سارا روپیہ بذریعہ چندہ جمع ہو F