تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 71
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 63 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موائع قبل از خلافت نا پہلے فرزند کی ولادت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی الہامی بشارت کے مطابق ۲۶/ مئی ۱۹۰۶ ء کو صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب کی پیدائش ہوئی۔١٨ صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے پوتے تھے۔افسوس ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔اور جلد ہی وفات پاگئے۔اور لاہور میں سپرد خاک کئے گئے۔چنانچہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہا تحریر فرماتی ہیں۔" بڑی بھا بھی جان (سیدہ ام ناصر مرحومہ) کے بطن سے جو پہلا لڑ کا نصیر احمد تولد ہو ا تھا۔وہ لاہو رہی میں دفن ہے"۔سالانہ جلسہ ۱۹۰۶ء پر پہلی پبلک تقریر سالانہ جلسہ ۱۹۰۶ء پر آپ نے پہلی مرتبہ تقریر فرمائی۔یہ پُر معارف تقریر جو آپ نے صرف سترہ برس کی عمر میں فرمائی تھی تو شرک میں تھی۔پہلے احکم میں چھپی پھر " چشمہ توحید" کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئی۔تقریر کیا ہے نکات و حقائق قرآنی کا ایک خزینہ ہے۔تقریر کے پہلے حصہ میں آپ نے عیسائیت کے زوال اور اسلام کی ترقی کی خبر دیتے ہوئے فرمایا۔اب وہ وقت ہے کہ عیسائیت کا بلند اور مضبوط منار گرادیا جائے۔یہ مذہب عیسوی کا قلعہ جس کی دیوار میں لوہے کی تھیں اب کرنے کو ہے کیونکہ اس کو زنگ لگ گیا ہے۔۔۔اب یہ عیسائی سلطنتیں خود بخود اسلام کی طرف رجوع کریں گی۔اور وہ یورپ جو عیسائیت کا گھر ہے اسلام کا مرکز ہوگا۔۔احمدی جماعت۔۔۔۔۔ایک دن آنے والا ہے کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔خدا ہمارے امام سے فرماتا ہے اور وعدہ دیتا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔تقریر کے دوسرے حصہ میں آپ نے سورہ لقمان کے رکوع ثانی کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی۔اس پہلی تقریر کے وقت آپ کی کیا کیفیت تھی؟ آپ نے اس کی تفصیل ایک باریوں بیان فرمائی کہ۔IAC]۔۔۔۔۔۔سب سے پہلی تقریر پر جو میں نے عام مجلس میں کی اس رکوع کو پڑھ کر اسی مسجد اقصیٰ) میں کی تھی۔اب مسجد د سیع ہو گئی ہے اور اس کی پہلی شکل نہیں رہی لیکن اس وقت میں جہاں کھڑا ہوں مین اس کے سامنے کے دروازہ میں کھڑے ہو کر میں نے تقریر کی تھی۔اگر چہ اب علم میں بہت ترقی ہو گئی ہے حالات اور افکار میں بہت تغیر ہو گیا ہے لیکن اب بھی میں اس تقریر کو پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ وہ باتیں کس طرح میرے منہ سے نکلیں اور اگر اب بھی وہ باتیں بیان کروں گا تو یہی سمجھوں گا۔کہ خدا تعالٰی نے اپنے خاص فضل سے سمجھائی ہیں اس وقت مجھ پر ایسی حالت تھی کہ چھوٹی عمر۔۔۔۔اور مجمع عام میں پہلی دفعہ بولنے کی وجہ سے میرے اعصاب پر ایسا اثر پڑا ہوا تھا کہ مجھے لوگوں کے چہرے نظر