تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 64
56 سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی کے سوارخ قبل از خلافت زلزلہ کانگڑہ کے بعد آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت پانچ میں قیام اور الہام میں ام را بریل ۱۹۹۵ء سے ۱۲ جولائی ۱۹۰۵ء تک باغ میںقیام کرنا پڑا پانچ میں اگر آپ اور حضرت میر محمد اسحق صاحب بہار ہو گئے الہام ہوا۔" سلام قولا من رب رحیم " اس پر دونوں کو شفا ہو گئی۔حضرت مسیح موعود کے الہام کی خبر رویا میں ۲۸/ اپریل ۱۹۰۵ء کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام وا الى مع الافواج اتيک ہفتہ مجیب بات ہے کہ ادھر حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا اویر حضور کے فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء کو خواب میں یہ بتایا گیا کہ حضرت مسیح موعود کو پھ الہام ہوا ہے۔آپ کے قلم سے اس اہم واقعہ کی پوری تفصیل یہ ہے کہ:۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ انبي مع الانواع اتيك بفته میں اپنی افواج کے ساتھ اچانک تیری مدد کے لئے آؤں گا۔جس رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا اسی رات ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ حضربت صحیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو آج یہ الہام ہوا ہے کہ انى مع الافواج اتيک ہفتہ جب صبح ہوئی تو مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو تازہ الہامات ہوئے ہوں وہ اندر سے یکھو الاؤ۔مفتی صاحب نے اس ڈیوٹی پر مجھے مقرر کیا ہوا تھا۔اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تازہ الہامات آپ سے لکھوا کر مفتی صاحب کو لا کر دے دیا کر تا تھا تاکہ وہ انہیں اشتہار میں شائع کر دیں اس روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب البوابات لکھ کر دئے تو جلدی میں آپ یہ الہام لکھنا بھول گئے کہ انی مع الافواج اتیک بغتة میں نے جب ان الہامات کو پڑھا تو میں شرم کی وجہ سے یہ جرأت بھی نہ کر سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس بارے میں کچھ عرض کروں۔اور یہ بھی جی نہ مانتا تھا کہ جو کچھ مجھے بتایا گیا تھا۔اسے غلط سمجھ لوں۔اسی حالت میں کئی دفعہ میں آپ سے عرض کرنے کے لئے دروازہ کے پاس جاتا مگر پھر لوٹ آنا پھر جاتا اور پھر لوٹ آتا۔آخر میں نے جرات سے کام لے کر کہہ ہی دیا کہ رات مجھے ایک فرشتہ نے بتایا تھا کہ آپ کو الہام ہوا ہے۔اني مع الافواج أتيك بفتہ مگر ان الہامات میں اس کا ذکر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا۔یہ الہام ہو ا تھا مگر لکھتے ہوئے میں بھول گیا چنانچہ کالی کھولی تو اس میں وہ الہام درج ا"