تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 62
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 54 سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے سوارخ قبل از خلافت er غالبا ماسٹر عبد الحق صاحب بھی ہمراہ تھے اور ایک باورچی بھی !! حضرت میاں صاحب امتحان دے کر قادیان پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں کسی نے کہا میاں صاحب بہت دبلے ہو گئے ہیں ایک اور صاحب نے یہ رائے دی کہ ان کو اپنی کمزوری کے خیال سے سخت فکر لاحق ہے۔کہ ایسا نہ ہو فیل ہو جائیں اس پر کسی بزرگ نے حضرت میاں صاحب سے ہی کہا کہ آپ دعا کریں۔یہ سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا۔” ہمیں تو ایسی باتوں کی طرف توجہ کرنے سے کراہت پیدا ہوتی ہے۔ہم ایسی باتوں کے لئے دعا نہیں کرتے۔ہم کو نہ تو نوکریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارا یہ منشا ہے کہ امتحان اس غرض سے پاس کئے جائیں ہاں اتنی بات ہے کہ یہ علوم متعارفہ میں کسی قدر دستگاه پیدا کر لیں جو خدمت دین میں کام آئے۔پاس فیل سے تعلق نہیں اور نہ کوئی غرض "۔علاوہ ازیں ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ حضور علیہ السلام نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ۱۱۵۴ فرمایا کہ اگر تم وہی محمود ہو جس کی خدا نے مجھے خبر دی ہے تو تمہیں اللہ تعالی خود سکھائے گا۔بہر کیف جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔آپ مڈل کی طرح میٹرک میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔اس لئے پیسہ اخبار کے ایڈیٹر منشی محبوب عالم صاحب نے ایک بار طنز الکھا۔بڑا لڑکا باوجودیکہ صاحب اولاد ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ مڈل میں فیل ہو چکا ہے اگر مرزا جی کے۔بعد یہی لڑکے ان کی گدی کے وارث بنے تو خوب مذہب چلا ئیں گے "۔۱۵۵ حضرت خلیفہ اول کی شاگردی دری تعلیم کے بعد حضرت خلیفہ اول نے آپ کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔” میری تعلیم کے سلسلہ میں سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفتہ المسیح اول کا ہے آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں اس لئے آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔چنانچہ انہوں نے زور دے دے کر پہلے قرآن پڑھایا اور پھر بخاری پڑھادی۔یہ نہیں کہ آپ نے آہستہ آہستہ مجھے قرآن پڑھایا ہو بلکہ آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ قرآن پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کرتے جاتے کوئی بات ضروری سمجھتے تو بتا دیتے ورنہ جلدی جلدی پڑھاتے چلے جاتے آپ نے تین مہینہ میں مجھے سارا قرآن پڑھا دیا تھا اس کے بعد پھر کچھ نانے ہونے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد آپ نے پھر مجھے کہا کہ میاں