تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 61 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 61

تاریخ اور میری جلد ۳ 53 سید نا حضرت خلیفتہ انسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت پہلا باب (فصل سوم) درسی تعلیم کا تعلیم کا اختتام ، حضرت مولانا حافظ نور الدین (خلیفۃ المسیح اول) کی شاگردی ، تشعید الاذہان کا اجراء- فرشتہ کی سورۃ فاتحہ سکھانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کا عزم صمیم شوال ۱۳۲۲ھ تاریخ الآخر ۵۱۳۲۹) جنوری ۱۹۰۵ ء سے مئی ۱۹۰۸ء تک) ۱۸ جنوری ۱۹۰۵ء کو آپ کا نام میٹرک کے میٹرک کے امتحان کے لئے سفرامر تسر اللہ کے لئے بھجوایا گیا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے جو ان دنوں ہیڈ ماسٹر تھے۔فارم پُر کرنے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں لکھا کہ "اس میں ایک خانہ ہے اس لڑکے کا باپ کیا کام کرتا ہے میں نے لفظ نبوت لکھا ہے "۔حضور نے جواب دیا۔" نبوت کوئی کام نہیں۔یہ لکھ دیں کہ فرقہ احمد یہ جو تین لاکھ کے قریب ہے اس کے پیشوا اور امام ہیں اصلاح قوم کام ہے " حضرت صاجزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالی مارچ ۱۹۰۵ء کے تیسرے ہفتہ میں بغرض امتحان امر تسر تشریف لے گئے۔(حکیم دین محمد صاحب پیشنر اکو فٹ کی شہادت کے مطابق) امتحان کا سنٹر گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر تھا جو ہال بازار کے آخر میں واقع تھا۔اور قادیان سے جانے والے سب طلباء حضور ایدہ اللہ تعالی کے سمیت مسجد خیر الدین سے متصل ایک سرائے میں ٹھہرے تھے ایک استاد