تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 44
تاریخ احمدیت جلد ۴ 36 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت سمجھا کہ کتاب لے کر با ہر بر آمدہ میں تشریف لائیں گے۔مگر جب آپ کے باہر تشریف لانے میں کچھ دیر ہو گئی۔تو میں نے اندر کی طرف دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ آپ فرش پر سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں میں نے خیال کیا کہ آج بارش کی وجہ سے شاید آپ سمجھتے تھے کہ میں حاضر نہیں ہوں گا اور جب میں آگیا ہوں تو آپ کے دل میں خاکسار کے لئے دعا کی تحریک ہوئی ہے اور آپ بندہ کے لئے دعا فرما ر ہے ہیں۔آپ بہت دیر تک سجدہ میں پڑے رہے اور دعا فرماتے رہے "۔اس اہتمام کے باوجود جو آپ کی ابتدائی دنیوی تعلیم صحت کی خرابی کا اثر زمانہ تعلیم پر کے لئے کیا کا وہ مکہ آپ کی صحت شروع ہی سے بہت چونکہ کمزور تھی اور آپ بچپن ہی سے بہار چلے آرہے تھے۔اس لئے آپ اپنے اساتذہ کی توجہ اور شفقت کے باوجود کوئی خاص فائدہ نہ اٹھا سکے۔چنانچہ حضور خود ہی فرماتے ہیں۔میری تعلیم جس رنگ میں ہوئی ہے وہ اپنی ذات میں ظاہر کرتی ہے کہ انسانی ہاتھ میری تعلیم میں نہیں تھا۔بچپن میں میری آنکھ میں سخت گرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں۔اور ایسی شدید تکلیف نکروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کے متعلق خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں۔اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے بھی شروع کر دیئے۔مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔جب آخری روزے کی آپ انکاری کرنے لگے۔اور روزہ کھولنے کے لئے مونہہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔دو چارفٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آسکتی۔صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے۔مگر اس میں بھی کرے پڑ گئے۔اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ اس کی پڑھائی اس کی مرضی پر ہوگی۔یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے۔کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لیا کرو۔اس کے علاوہ آپ نے مجھے کچھ اور پڑھنے کے لئے کبھی کچھ