تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 43
جلد 35 سید نا حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور اپنے گھر سے پانی پی کر پھر واپس تشریف لاتے۔خواہ کیسا ہی مصفا پانی کیسے ہی صاف ستھرے برتن میں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا آپ اسے نہ پیتے۔صرف اس لئے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے آپ کو ہدایت تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لینا اب بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہے جس میں ہمیں حضور کی اس وقت کی شکل صحیح رنگ میں نظر آسکتی ہے۔اول دیکھئے کہ حضور اس بچپن کے زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کیسی کامل اطاعت کرتے اور کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتے۔دوسرے دیکھئے کہ وہ اس اطاعت میں کس درجہ کی احتیاط سے کام لیتے۔بظاہر حضرت اقدس نے جب فرمایا کہ کسی کے ہاتھ سے کھانے پینے کی چیز نہ لینا۔تو حضرت اقدس کی مراد ایسی چیزوں سے تھی جو لوگ بچوں کو اپنی محبت اور پیار کے اظہار کے لئے دیتے ہیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ کسی کے برتن سے پانی بھی نہ پینا۔مگر آپ کی احتیاط اس درجہ کی تھی کہ آپ اپنے گھر کے سوا قادیان میں کسی اور گھر سے کسی گھڑے یا صراحی سے پانی لے کر پینا بھی حضرت اقدس علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی ہی سمجھتے تھے۔یہی حد درجہ کی احتیاط ہے۔جسے دوسرے لفظوں میں تقویٰ کہتے ہیں۔پس آپ کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے۔کہ آپ بچپن میں ہی اطاعت اور تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن تھے۔اور یہی بیج تھا جو آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا گیا اور زیادہ واضح اور زیادہ نمایاں شکل میں کمال کے آخری مرتبہ تک پہنچ گیا۔یہ پانی کا واقعہ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ہوا۔اور حضور ہمیشہ اطاعت کے اصول پر مضبوطی سے قائم رہے۔ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ خیال کرے کہ شاید حجاب کی وجہ سے آپ ہمارے گھر سے پانی پینے سے اجتناب فرماتے مگر ایسا نہیں تھا۔آپ بے تکلفی سے ہمارے گھر میں رہتے اور حضور کی خوش خلقی اور خوش طبعی کی باتیں اس وقت تک بندہ کے گھر سے نہایت محبت کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔اور جب حضور کے منصب خلافت پر سرفراز ہونے کے بعد بندہ کے گھر سے بیعت کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے اس وقت کے بچپن کے واقعات ان کو یاد دلائے۔کیونکہ حضور کا حافظہ بہت مضبوط ہے "۔PA حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طالب علمی کا ایک اور واقعہ لکھتا ہوں اس سے بھی آپ کی قلبی کیفیت پر روشنی پڑتی ہے۔ایک دن کچھ بارش ہو رہی تھی۔مگر زیادہ نہ تھی۔بندہ وقت مقررہ پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔سیڑھیوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔حضور نے دروازہ کھولا بندہ اندر آکر بر آمدہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔آپ کمرہ میں تشریف لے گئے میں نے