تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 42
تاریخ احمدیت جلد ۴ 34 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت سال کی تھی بندہ کے پاس انگریزی پڑھنی شروع کی پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مکان میں جو دار المسیح الموعود کے متصل اس جگہ واقع تھا جہاں آج کل نواب صاحب کا مکان ہے رہتا تھا جب تک میں اس مکان میں رہا حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ اس مکان میں پڑھنے کے لئے تشریف لاتے رہے اس کے بعد میں خود حضور کی خدمت میں حاضر ہو تا رہا اور یہ خدمت بندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دس سال میں برابر ادا کر تا رہا۔اور حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد یہ سلسلہ حضرت خلیفتہ المسیح اول ﷺ کے شش سالہ دور خلافت میں بھی جاری رہا۔۔۔گویا حضور کا سارا بڑھتا اور پھولنا اور بابرگ و بار ہونا میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔آپ ایک نازک پتیوں والے چھوٹے پودے کی طرح تھے جبکہ میں نے پہلی دفعہ حضور کو دیکھا اور یہ پودا میرے دیکھتے دیکھتے جلد جلد بڑھا اور پھول پھل لایا۔اور وہ حیرت انگیز ترقی کی جس کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی اور انسان کی عقل دنگ ہو جاتی ہے اگر کوئی قابل انشاء پرداز ہو تا تو وہ شاید اس حیرت انگیز ترقی کا نقشہ کھینچنے کی کچھ کوشش کرتا۔لیکن میں تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتا۔کہ اس بات کی شہادت دوں کہ جو کچھ خدا تعالی کے پاک کلام میں آپ کی نسبت پہلے سے خبر دی گئی تھی۔اس کو میں نے اپنی آنکھوں سے لفظ بلفظ پورا ہو تا دیکھ لیا مجھے اپنی زبان کی کمزوری اور قلم کی ناتوانی پر افسوس آتا ہے جو صحیح نقشہ ناظرین کے سامنے پیش کرنے سے عاجز ہوں لیکن میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔و هو الموفق ” میں نے بچپن سے ہی حضور میں سوائے اوصاف حمیدہ اور خصائل محمودہ کے کچھ نہیں دیکھا۔ابتداء میں ہی آپ میں نیکی کے انوار اور تقویٰ کے آثار پائے جاتے تھے۔جو آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں ہوتے گئے۔ممکن ہے کہ کوئی شخص میرے اس بیان کو خوش اعتقادی پر محمول کرے اس لئے میں آپ کے بچپن کی ایک بات کا ذکر کرتا ہوں جس سے ناظرین خود حقیقت کا کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔آپ کو بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لینا۔یہ ایک ہدایت تھی جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بچہ کو دی۔اب دیکھئے کہ وہ خورد سال بچہ حضرت اقدس کی اس ہدایت کی کس طرح تعمیل کرتا ہے۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ابتداء میں حضور بندہ کے مکان پر پڑھنے کے لئے تشریف لاتے تھے اور وہ مکان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کاہی مکان تھا جو حضور کے رہائشی مکان کے بالکل متصل بلکہ حضور کے گھر کے ساتھ ملحق تھا۔ہم غالبا ۳ سال اس مکان میں رہے اور اس تمام عرصہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بندہ کے پاس پڑھنے کے لئے تشریف لاتے اور جب کبھی آپ کو پیاس لگتی۔تو آپ اٹھ