تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 667 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 667

632 تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 04 31 دوسرے ایک اور صاحب جو پرانے تو نہ تھے مگر بڑا اخلاص رکھتے تھے اور خصوصیت سے سیالکوٹ کی جماعت میں سے جن تین اصحاب کو خدا نے خلافت ثانیہ کے شروع کے وقت فتنہ سے محفوظ رکھا ان میں سے ایک تھے یعنی منشی محمد عبد اللہ صاحب"۔اسی زمانہ میں بعض ایسی عورتوں کی بھی وفات ہوئی ہے جو بطور نشان ہے یا جو قومی لحاظ سے افسوسناک ہے جیسے تائی صاحبہ کا انتقال اس عرصہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی نواسی ہاجرہ فوت ہوئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو ان سے خاص انس تھا میں نے دیکھا اپنے بچوں کی طرح رکھتے اور جب اپنے بچوں کے لئے کپڑے بناتے تو ان کے لئے بھی بناتے مرحومہ میں بھی بہت اخلاص تھا اور سلسلہ کی خدمت کا شوق تھا۔لجنہ کی محنت کرنے والی کار کن تھیں۔چونکہ جوانی میں ہی فوت ہو گئی ہیں اس وجہ سے ان کی وفات کا اور بھی افسوس ہے ان باتوں کا اظہار میں نے اس لئے کیا ہے تا جماعت میں یہ احساس پیدا ہو کہ جو وجود سلسلہ کے خدمت گزار اور قابل قدر ہوں ان کے لئے محبت اور الفت کے جذبات پیدا ہوں۔۔۔۔ان سے اپنے اخلاص کا اظہار کیا جائے اور ان کی یاد قائم رکھی جائے "۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے ۱۹۲۷ء کے بعض متفرق مگر اہم واقعات حرم رابع سے صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب احرم خامس سے صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب I اور حرم اول سے صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب پیدا ہوئے نیز حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ہاں سید مسعود احمد صاحب کی ولادت ہوئی۔۶۴ ۲۔حضرت خلیفہ ثانی نے اسی سال ۲۵ لاکھ کا ریز و فنڈ قائم کرنے کی تحریک فرمائی اور اس کی ضرورت یہ بیان کی کہ ہماری جماعت کا بجٹ چونکہ محدود ہوتا ہے اور ہم اپنے سلسلہ کی ضروریات سے اس قدر روپیہ نہیں بچا سکتے جس سے عام اسلامی معاملات کی درستی کے لئے کافی رقم نکال سکیں۔جیسے که شدھی کا مقابلہ یا تمدنی اور اقتصادی تحریکات ہیں یا ادنی اقوام کی تبلیغ ہے۔اس وجہ سے ہم نے ۲۵ لاکھ ریز رو ننڈ کی تحریک کی ہے تاکہ اصل برقم محفوظ رہے اور اس کی آمد اہم کاموں پر خرچ کی جائے۔۲۵ اس سال حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے کولمبو، بنگال، مدراس مالا بار اور یوپی کا کامیاب تبلیغی دورہ کیا اور حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیز تبلیغی مہم پر حیدر آباد تشریف لے گئے۔- مرکز سے خط و کتابت کے ذریعہ سے بھی تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا گیا۔