تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 665 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 665

تاریخ احمدیت - جلد ۴ 630 خلافت همانیه کا مادہ۔چنانچہ وہ اس آٹھ سال کے عرصہ میں بالکل سوتے رہے ہیں اور صرف اس سال عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب احمدی بیرسٹر لاہور ممبر پنجاب کو نسل اور ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب بیرسٹر ممبریو - بي کو نسل اس غرض سے ولایت گئے تھے۔اور انہیں کئی بڑے بڑے آدمیوں نے کہا کہ ہمیں تو آج ہی معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی جداگانہ حفاظت کی ضرورت ہے ورنہ ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ ہندو لیڈر جو باتیں کہتے ہیں مسلمان ان سے متفق ہیں ورنہ مسلمان کیوں نہ آکر ہم سے اپنے حقوق کے متعلق بات کرتے لیکن دو آدمیوں کی سہ ماہی کوشش آٹھ سال کے درجنوں آدمیوں کی کوششوں کا مقابلہ کب کر سکتی ہے ہندو لیڈروں میں سے اکثر انگلستان کے با اثر لیڈروں کے ذاتی دوست ہیں۔جبکہ مسلمانوں میں سے بہت ہی کم لوگ انگریز لیڈروں کے روشنا سا ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ انگریز ہندوستان کے مطالبات وہ سمجھتے ہیں جو ہندوؤں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور مسلمان اس امر کو یاد رکھیں کہ اگر کمیشن کا بائیکاٹ ہوا تو کمشن جو رپورٹ کرے گا۔وہ اپنے پہلے علم کی بنا پر کرے گا۔اور وہ الف سے لیکری تک ہندو لیڈروں کا دیا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ ثانی کی سالانہ جلسہ پر تقریریں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسه ۱۹۲۷ ء پر بھی حسب دستور تین تقریر میں فرما ئیں۔پہلی تقریر افتتاحی تھی دوسرے دن کی تقریر دلپذیر میں سال کے کاموں پر آپ نے تبصرہ کیا اور آئندہ کا پروگرام جماعت کے سامنے رکھا۔تیسرے دن علمی تقریر حضرت مسیح موعود کے کارنامے کے موضوع پر تھی۔مؤخر الذکر تقریر میں آپ نے حضور علیہ السلام کے پندرہ عظیم الشان کار ہائے نمایاں بالتفصیل بیان فرمائے اور آخر میں ارشاد فرمایا :- میں نے آپ کے کاموں کی تعدادہ ابتائی ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ کا کام یہیں تک ختم ہو گیا ہے آپ کا کام اس سے بہت وسیع ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے یہ اصولی ہے اور اس میں بھی انتخاب سے کام لیا گیا ہے اگر آپ کے سب کاموں کو تفصیل سے لکھا جائے تو ہزاروں کی تعداد سے بڑھ جائیں گے اور میرے خیال میں اگر کوئی شخص انہیں کتابی صورت میں جمع کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ مشاپورا ہو سکتا ہے جو آپ نے براہین احمدیہ میں ظاہر فرمایا ہے۔اور وہ یہ کہ اس کتاب میں اسلام کی تین سو خوبیاں بیان کی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ وعدہ اپنی مختلف کتابوں کے ذریعہ پورا کر دیا۔آپ نے اپنی کتابوں میں تین سو سے بھی زائکہ خوبیاں بیان فرما دی ہیں۔اور میں یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔