تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 657 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 657

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 622 خلافت عثمانیہ کا چودھواں سال قوت و شدت سے اقرار کرنے پر مجبور ہوئے کہ مسلمانوں کی خدمت اور بھلائی کے لئے تنہا یہی جماعت مصروف جہاد ہے۔چنانچہ مولانا محمد علی صاحب جو ہر حضور کی خدمت اسلام کے لئے مصروفیت اور درد دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنے اخبار ”ہمدرد دہلی (۲۶ نمبر ۱۹۲۷ء) میں لکھی :۔" نا شکر گزاری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم ، تبلیغ و تجارت میں بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں۔اور وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منتظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمات اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیچ دعادی کے خوگر میں مشعل راہ ثابت ہو گا۔جن اصحاب کو جماعت قادیان کے اس جلسہ عام میں جس میں مرزا صاحب موصوف نے اپنے عزائم و طریق کار پر اظہار خیالات فرمایا - شرکت کا شرف حاصل ہوا ہے وہ ہمارے خیال کی تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے"۔اخبار در نجف (سیالکوٹ) نے اپنی ۱۸ اکتو بر ۱۹۲۷ء کی اشاعت میں لکھا۔احمدی جماعت قادیان کے بہت سے اشتہارات و نوٹس دفتر میں بغرض اندراج در نجف موصول ہوئے جنہیں بوجہ عدم گنجائش درج نہیں کیا گیا ہمیں اس فرو گذاشت پر افسوس ہے جماعت مذکورہ کی خالص اسلامی خدمات کا اعتراف نہ کرنا پرلے درجے کی بے حیائی ہے امرت سر کے ایک ڈھیٹ اخبار نے ان کی نیت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بے جا جھک ماری ہے تعجب ہے کہ جو لوگ باعث ایجاد خلق فخر موجودات سرور کائنات ﷺ کو کسی رنگ میں بھی عالم خفیات وغیب نہیں مانتے وہ قادیانیوں کی نیت اور ارادہ سے کس طرح آشنا ہو سکتے ہیں اگر قادیانی جماعت کا نصب العین اس سے احمدیہ تبلیغ ہے اور وہ دین خدا کی خدمت کر کے مسلمانان عالم پر اپنا اثر ڈالنا چاہتی ہے تو بسم اللہ دل ما روشن چشم ما شاد کیونکہ ان کا اثر نتیجہ ہو گا خدمات اسلام کا پس ہر اک ہمد ردملت بیضا کو اس امر کا حریص ہونا چاہئے جس کا یہ نتیجہ ہے۔اگر ان کی سرگرمی میں ہی تبلیغ احمدیت ہے۔نیز اگر کفار کا مقابلہ اور با ہمی کشمکش سے احتراز و اجتناب با ہم آویزیوں سے نفرت دعوت اتحاد پر زور دینا وغیرہ امور کو ہی مسلم پبلک بنظر پسندیدگی دیکھتی ہے تو پھر بجائے اس کے کہ اس عمل خیر پر کار بند ہونے والوں کی نیت پر حملے کئے جائیں کیوں نہ دینی وطیرہ خود اختیار کیا جائے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں نے مسلم پبلک سے ووٹ حاصل