تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 654
در بیت - جلد ۱۴ لیکچر شمله 619 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال استمبر کا دن سفر شملہ میں ایک خاص دن تھا کیونکہ اس روز حضور نے الفنسٹن ہال میں نواب سر ذو الفقار علی خان کی صدارت میں ایک بصیرت افروز لیکچر دیا سب سے پہلے تلاوت قرآن مجید کے بعد صدر سر ذو الفقار علی خان نے آپ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا " حضرات ہمارے معزز محترم مرزا صاحب کی ہستی اس بات کی محتاج نہیں کہ آپ سے انٹروڈیوس کراؤں آپ کو زمانہ جانتا ہے آپ کی ذات سے جو فیض پہنچ رہا ہے اور مسلمانوں کی اصلاح حالت کے لئے جو سعی آپ کر رہے ہیں کہ سب کو معلوم ہے اس لئے میں کسی لمبی تقریر کی حاجت نہیں سمجھتا بلکہ حضرت سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ ہمیں اپنے ارشادات سے مستفیض فرما ئیں۔اس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تین گھنٹہ تک ایک عظیم الشان لیکچر دیا۔جس میں نہایت مدلل اور موثر انداز میں مسلمانوں کو ان کی انفرادی اور قومی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور انہیں حقیقی مسلمان بننے اور اپنے اندر استقلال ادب خدمت خلق خواہش مقابلہ صفائی ، پابندی وقت ، جفاکشی ، رواداری نظام ، قومی آزادی اور تبلیغی روح پیدا کرنے کی تلقین فرمائی اور ایک بار پھر اپنا یہ قومی نعرہ بلند کیا کہ قومی ترقی چاہتے ہو۔تو مشترک اسلامی امور میں ایک ہو جاؤ۔چنانچہ حضور نے اختلاف امتی رحمۃ کا فلسفہ بیان کرنے کے بعد فرمایا۔" میری بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔میرا فیصلہ یہ ہے کہ جو فرقہ اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے اور قرآن مجید کی شریعت کو منسوخ قرار نہیں دیتا اس سے اتحاد کر لو قومی برکات اور انعام قومی اتحاد کی روح سے وابستہ ہیں "۔جداگانہ انتخاب کے مسئلہ پر مسٹر محمد علی شملہ کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ آپ نے جناب محمد علی صاحب جناح ( قائد اعظم) سے جداگانہ جناح ( قائد اعظم) سے تبادلہ خیالات انتخاب کے مسئلہ پر تبادلہ خیالات کیا اور " ان پر اس کی معقولیت واضح کر دی۔چنانچہ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کا بیان ہے کہ۔یہ موسم گرما ۱۹۲۷ء کا واقعہ ہے ستمبر کا مہینہ تھا تمام صوبوں کے لیڈر شملہ میں اکٹھے ہوئے۔ضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی رائے جداگانہ انتخاب کے حق میں تھی۔۔۔مرحوم قائد اعظم اس وقت کانگرس کے ممبر اور مسٹر محمد علی جناح کہلاتے تھے آپ کو بھی کنگلے میں دعوت چائے دی گئی تھی۔میں اس وقت اس دعوت میں موجود تھا۔۔آپ نے تبادلہ خیال کے آخر میں فرمایا۔مرزا صاحب! میں نہیں مان سکتا کہ نصب العین ہمارا یہ ہو کہ ہندوستانی قوم بلند مقام تک جاپہنچے اور اس کا ذریعہ یہ جداگانہ انتخاب ہو ؟ قومیت صرف مشترکہ انتخاب کے ذریعہ سے ہی بن سکتی ہے حضور نے فرمایا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ جہاں تک