تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 655 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 655

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 620 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال آئیڈیل (غایہ کمالیہ یعنی مقصد اعلے) کا تعلق ہے مشترکہ انتخاب قومیت کے لئے ضروری ہے مگر اس کا وقت نہیں مسلمان حد درجہ کمزور ہیں۔وہ مشترکہ انتخاب میں ہندو سرمایہ اور ہندو چالوں کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکیں گے مگر مسٹر محمد علی جناح نہ مانے اور اپنی رائے پر قائم رہے۔چنانچہ شملہ میں جب آپ کے زیر صدارت آخری اجلاس ہوا اور اس میں مقررین کی مخالف و موافق دونوں طرح کی تقریریں ہو ئیں اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے بھی تقریر فرمائی۔تو اکثر حضرات جدا گانہ انتخاب کے حق میں تھے۔مگر جب رائے حاصل کرنے کا سوال اٹھایا گیا تو صد رجلسہ نے بدیں عذر رائے حاصل کرنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ اجلاس با قاعدہ نہیں حاضرین میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلم لیگ کے ممبر نہیں غرض مرحوم قائد اعظم کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت کس طریق انتخاب کے حق میں ہے اور جب انہوں نے اجلاس کے خاتمہ پر آخری تقریر کی تو ان کا اٹھنا اور مسکراتے ہوئے یہ کہنا میں کبھی نہیں بھولا کہ مجھے ان تقریروں سے قوم کی اکثریت کا جداگانہ انتخاب کے حق میں ہو نا معلوم ہو گیا ہے جب ہندوؤں کے ساتھ فیصلہ کرنے کا موقع آئے گا تو میں ان کی اس رائے کا خیال رکھوں گا"۔سفر شملہ کے تاثرات سفر شملہ کے اہم واقعات بیان ہو چکے ہیں۔بالآخر مناسب ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اس سفر سے متعلق بیان فرمودہ تاثرات درج کر دیئے جائیں حضور فرماتے ہیں:- اس سال میں نے شملہ کا سفر اختیار کیا جس کے دو بہت بڑے فائدے ہوئے ایک تو یہ کہ مذہبی لحاظ سے اس مسودہ میں مشورہ دینے کا موقعہ میسر آیا جو گورنمنٹ نے مذاہب کے بزرگوں کی ہتک کے انسداد کے متعلق پیش کیا اسمبلی کے ممبروں کو اس کے متعلق کئی باتیں میں نے بتا ئیں چنانچہ مسودہ میں بعض تبدیلیاں میرے مشورہ کے مطابق ہو گئیں بعض نہ بھی ہو ئیں۔مگر بہت بڑی کامیابی یہ تھی کہ بڑے بڑے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ اسلام کے لئے احمدی جماعت سب کچھ قربان کر کے کام کرنے کے لئے تیار ہے۔مسٹر نیڈو جو مشہور عورت لیڈر ہیں انہوں نے ذکر کیا میں ایک موقعہ پر مسٹر محمد علی جناح سے ملی تو انہوں نے کہا احمدی جماعت میں کام کرنے کی عجیب روح ہے اسمبلی کے ممبروں کو اتنی فکر نہیں جتنی ان لوگوں کو ہے ان کے آدمی نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن ہر وقت ہمارے پاس پہنچ جاتے اور اپنا مشورہ پیش کرتے ہیں بات یہ ہے کہ جب مجھے مسودہ ملا تو میں نے راتوں رات آدمیوں کو اسمبلی کے بعض ممبروں کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں اس کے متعلق ضروری باتیں بتاؤ۔اس اثنا میں شملہ میں اتحاد کانفرنس منعقد ہوئی جس کا مجھے بھی ممبر بنایا گیا اس طرح مجھے ہندو