تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 651 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 651

616 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال جائیں اور اس کو فوقیت ہونی چاہئے۔-۱۴ مختلف صوبجات کے اختیار خود انتظامی کے اصول کو اس شرط پر تسلیم کرنا چاہئے کہ ایسے صوبجات ہمیشہ مرکزی حکومت کے قواعد و آئین کے اندر رہیں گے۔۱۵ مخلوط انتخاب کا طریقہ اصول صحیح ہے مگر ہندوستان کی موجودہ حالت کے مطابق نہیں اور ہمارے خیال میں یہ مسلم مفاد کے لئے خطر ناک ہے بہر حال جماعت احمد یہ اور پنجاب کے مسلمان اور بعض دوسرے صوبوں کے مسلمان بھی فی الحال مخلوط انتخاب کے طریقہ کو منظور کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جداگانہ انتخاب کا حق مسلمانوں کے لئے جاری رہنا چاہئے۔اور دوسری جماعتوں کو بھی جو اسے پسند کریں۔مذہبی امور میں سے کوئی بات فیصلہ نہ کی جائے جب تک اس قوم کے تین چوتھائی ممبر جس پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔اس کے حق میں رائے نہ دیں اور فیصلے کرنے کے بعد بھی اگر اتنی ہی تعداد ممبروں کی اس کو چھوڑنا چاہے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔۱۷ اس وقت تمام فرقہ وارانہ مخالفت اور لڑائیوں میں ایک قوم دوسری کو پیش دستی کا الزام دیتی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اتحاد کا نفرنس کے آخری فیصلہ سے پہلے یا تو یہ طے ہو جائے کہ تمام مصائب کی ذمہ داری کس قوم پر ہے؟ یا پھر یہ طے ہو جانا چاہئے کہ اگر آئندہ کوئی رنجدہ واقعہ ہو تو کسی فریق کو گذشتہ واقعات کا حوالہ دینے کی اجازت نہیں ہوگی ورنہ فطر تأیہ خیال پیدا ہو گا۔کہ ذمہ داری کے اظہار کے ڈر سے صلح کی جارہی ہے۔ہر صوبہ میں ایک بورڈ بنایا جائے جس کی شاخیں تمام اضلاع میں ہوں۔اور جب کبھی کوئی فرقہ دارانہ مخاصمت پیدا ہو تو لو کل بورڈ کے نمبروں کو فور آ جائے وقوع پر پہنچ کر تفتیش کرنا چاہئے۔اور جس قوم کی طرف سے ابتداء ثابت ہو اس کے لیڈر کو اسے مناسب سزا اور مظلوم پارٹی کو ہر ممکن طریق سے مدد دینی چاہئے۔انڈین۔ن نیشنل کانگریس صحیح معنوں میں قومی جماعت ہونی چاہئے اور ہر خیال اور عقیدہ کے لوگوں کو اس کا ممبر ہونے کی اجازت ہو اور حلف وفاداری صرف انہیں الفاظ میں لیا جانا چاہتے کہ میں اپنے آپ کو ہندوستانی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ہندوستان کی بہبودی کو مد نظر رکھوں گا اس کے سوا ممبر کے لئے کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے تاکہ ہر خیال اور عقیدہ کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔-19 ہر قوم یا فرقہ کو اس کی اپنی تنظیم سے متعلقہ باتوں میں کامل آزادی ہونی چاہئے تاوہ اپنے مفاد کی