تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 652
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ حفاظت کر سکے۔617 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال اسی دن شام کے پانچ بجے برہم مندر کے ہال میں ہندو مسلم اتحاد کانفرنس کا تیسرا اجلاس اتحاد کانفرنس کا تیسرا اجلاس جناب محمد علی صاحب جناح قائد اعظم) کی صدارت میں منعقد ہو ا جس میں یہ قرار پایا۔کہ ایک مشترکہ سب کمیٹی مقرر کی جائے جو اس کا نفرنس کے لئے ایجنڈا تیار کرے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی اسی کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے۔اسی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ دوسرے دن ۸ ستمبر ۱۹۲۷ء کی صبح کو سب کمیٹی کا اجلاس ہو اور شام ۵ بجے اس ایجنڈا پر غور کرنے کے لئے اتحاد کانفرنس کا اجلاس ہو۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی قرار داد کے مطابق مقررہ وقت پر تشریف لے گئے لیکن کوئی اجا اس نہ ہو سکا۔الغرض کئی روز تک یہ کانفرنس جاری رہی اور سب کمیٹی کے اجلاسوں کی طرح کا نفرنس میں بھی تعطل کی صورتیں پیدا ہو ئیں۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح کی کوشش سے فضا سازگار ہو گئی۔چنانچہ پنڈت مدن موہن مالویہ جی نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے (جو شملہ میں نامہ نگار کی حیثیت سے گئے تھے ) کہا کہ کل حضرت نے بہت ہی معقول تقریر کی اور صحیح راستہ دکھایا۔افسوس حضور کی انتہائی جدوجہد کے باوجود ملکی لیڈروں میں کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دوران میں ہندو اخبارات نے اپنے لیڈروں پر اس قدر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ سنجیدگی سے کسی مسئلہ میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھنے کے لئے تیار بھی ہو جاتے تو ہندو ان کی قطعا پروانہ کرتے۔قیام شملہ کے دوران میں حضور کی گورنر صاحب گور نر صاحب پنجاب سے ملاقات پنجاب سے بھی ملاقات ہوئی جس کی تفصیل خود حضور کے الفاظ میں یہ ہے : گور نر صاحب پنجاب سے میرا ملنے کا ارادہ نہ تھا مگر چیف سیکر ٹری صاحب گورنر پنجاب کی چٹھی آئی کہ واپس جانے سے پہلے گورنر صاحب سے ضرور ملتے جائیں میں جب ان سے ملنے کے لئے گیا تو انہوں نے چھوٹتے ہی تحریک چھوت چھات کے متعلق گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ آپ کی جماعت نے بائیکاٹ کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔میں نے بتایا کہ یہ رپورٹ آپ کو غلط می ہے نہ ہم نے بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا اور نہ ہماری جماعت نے بائیکاٹ کی تحریک کی۔ہم نے جو کہا ، و صرف یہ ہے کہ ہندو جو چیزیں مسلمانوں سے نہیں خریدتے وہ مسلمان بھی ہندوؤں کی بجائے مسلمانوں سے خریدیں اور مسلمان اپنی دکانیں نکالیں تاکہ تجارت کا کام بالکل ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے آخر ایک لمبی گفتگو کے بعد گور نر صاحب کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ بائیکاٹ نہیں اور اس تحریک میں کوئی ہرج نہیں۔