تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 648
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 613 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال حضور کی اس شبانہ روز جد وجہد کا اثر یہ ہوا کہ قیام شملہ کے صرف نو دن بعد حکومت ہند نیا قانون اسمبلی میں پیش کرنے پر رضامند ہو گئی۔چنانچہ ۲۲ اگست ۱۹۲۷ء کو شملہ سے یہ سرکاری اعلان ہوا کہ۔مذاہب کی توہین یا دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لئے شرانگیز مضامین کی افسوس ناک اشاعت کے پیش نظر حکومت ہند نے موجودہ قانون کی دفعات کو محض اس لئے بنظر امعان ملاحظہ کیا کہ ان میں سے کسی کو قوی بنانے کی ضرورت ہے یا نہیں لیکن قانون پر غور کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس قسم کی تحریرات تعزیرات ہند کے باب پانزدہم کی گرفت میں نہیں آتی ہیں۔کیونکہ یہ باب محض ان جرائم پر حاوی ہے جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اس قسم کی تمام تحریرات دفعه ۱۵۳- الف تعزیرات ہند کے رو سے قابل مواخذہ ہیں کیونکہ ایسا تو بہت ہی شاذ و نادر ہوتا ہے کہ اس سے دو مختلف جماعتوں کے درمیان نفرت و حقارت کے جذبات کو ترقی دینے کی کوشش کا اظہار نہ ہوتا ہو۔لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ طریقہ ایسے افعال کو قابل مواخذہ قرار دینے کے لئے ایک ٹیڑھا سا طریقہ ہے جنہیں خود ہی مورد تعزیر ہونا چاہئے عام اس سے کہ ان افعال سے مختلف جماعتوں کے درمیان منافرت و مغایرت کے جذبات کو ترقی ہوتی ہے یا نہیں۔لہذا حکومت ہند نے فیصلہ کر لیا ہے کہ لیجسلیٹو اسمبلی میں فورا ایک مسودہ قانون پیش کر دیا جائے تاکہ تعزیرات ہند کے باب پانزدہم میں ایک نئی دفعہ کا اضافہ ہو جائے جس کے رو سے کسی مذہب کی عمد اتوہین یا توہین کی کوشش یا ملک معظم کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا مجروح کرنے کی کوشش کو بذات خود ایک جرم قرار دیا جا سکے۔اس دفعہ کو کتاب الآئین پر لانے کے لئے ضابطہ فوجداری میں بھی بعض ترمیمات کی جائیں گی جو اس اجلاس میں پیش ہوں گی"۔چنانچہ اسمبلی نے اس معاملے کے پیش ہونے پر ایک نئی دفعہ کا اضافہ منظور کر لیا اور پیشوایان مذاہب کی عزت کے تحفظ کا قانون پہلے سے بھی زیادہ معین صورت اختیار کر گیا۔ہندو مسلم اتحاد کانفرنس میں شرکت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہندو مسلم مناقشات دور کرنے کی جدوجہد کبھی ترک نہیں کی اور باوجودیکہ آپ کے سامنے تبلیغ اسلام اور تربیت جماعت اور تنظیم قوم کا ایک عظیم الشان مقصد تھا۔آپ نے ملک میں امن و صلح کی فضا پیدا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔چنانچہ پچھلی سطور میں یہ ذکر آچکا ہے کہ حضور نے وائسرائے ہند کے نام ایک مفصل مکتوب لکھا جس میں ہندو مسلم فسادات کی روک تھام اور باہمی مفاہمت کے لئے نہایت قیمتی مشورے دیئے اس خط میں