تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 645
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 610 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال ۱۹۲۷ء کو فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس کے ابتداء میں یہ بتایا کہ جماعت احمد یہ اس قانون کے نامکمل ہونے کی دیر سے شاکی ہے چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا کہ:- ۱۸۹۷ء میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے لیکن افسوس کہ لارڈالجن نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔اس کے بعد سب سے اول ۱۹۱۴ء میں میں نے سراڈ وائر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے ملک میں امن قائم نہ ہو گا۔انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب امام جماعت احمد یہ فوت ہو گئے۔اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔چنانچہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا۔میں سراڈ وائر سے مل نہ سکا اور بات یونہی رہ گئی۔اس کے بعد ۱۹۲۳ء میں میں میکلیگن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گور نمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہز ایکسیلینسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا اور باوجو د وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غم بر نخور کریں گے غور نہیں کیا میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا اور تمام حکام اعلے سیاسی لیڈروں اخباروں پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں کو جاچکا ہے اور کلکتہ کے مشہور اخبار " بنگالی" نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے سرمائیکل اڈوائر اور ٹائمز آف لنڈن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ہی ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سر بر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لیکن افسوس کہ ان حکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آرہا ہے ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ کی و فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور نے حکومت اور مسلمانوں کو مروجہ قانون (۱۵۳- الف) کی