تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 39
تاریخ احمدیت جلد ۴ 31 ید تا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ۹۳ چنانچہ اس خواب کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاف بری کر دئے گئے۔آخر ۱۸۹۷ء میں سیدنا حضرت محمود سلمہ الودود نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ملتان کا سفر فرمایا۔اس سفر کے صرف دو واقعات آپ کو یاد ہیں جن کی تفصیل خود سفر ملتان آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں ٹھہرے۔وہاں ان دنوں مومی تصویر میں دکھائی جارہی تھیں۔جن سے مختلف بادشاہوں اور ان کے درباروں کے حالات بتائے جاتے تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش دیر ہاؤس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ یہ ایک علمی چیز ہے آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے چلیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انکار کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے مجھ پر زور دینا شروع کر دیا۔کہ میں چل کر وہ مومی مجتمے دیکھوں۔میں چونکہ بچہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے پڑ گیا۔کہ مجھے یہ مجتھے دکھائے جائیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے اصرار پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔مختلف بادشاہوں کے حالات تصویروں کے ذریعہ دکھائے گئے تھے۔۔۔اور دوسرا واقعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لاہور کے اندر کسی نے دعوت کی اور آپ اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لے گئے۔کچھ اثر میرے دل پر یہ بھی ہے کہ دعوت نہیں تھی۔بلکہ مفتی محمد صادق یا ان کا کوئی بچہ بیمار تھا۔اور آپ انہیں دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔بہر حال شہر کے اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واپس آرہے تھے کہ سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے پاس میں نے ایک بہت بڑا ہجوم دیکھا جو گالیاں دے رہا تھا ایک شخص ان کے درمیان کھڑا تھا۔۔۔۔۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی گاڑی پاس سے گزری۔تو ہجوم کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی میلہ ہے چنانچہ میں نے نظارہ دیکھنے کے لئے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا۔اس وقت کا یہ واقعہ مجھے آج تک نہیں بھولا۔کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور جس پر ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا جا رہا تھا۔” مرزا دو ڑ گیا۔مرزا دو ڑ گیا۔اب دیکھو ایک شخص زخمی ہے اس کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔مگر وہ مخالفت کے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے ٹنڈے ہاتھ سے ہی نعوذ باللہ ۱۹۴ " احمدیت کو دفن کر آؤں گا"۔40]