تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 40
i احمدیت۔جلد ۴ 32 سید نا نفرت خلیفۃالمسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت تعلیم الاسلام سکول میں داخلہ ۱۸۹۹ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا افتح ہوا۔اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔آپ بھی اس مدرسہ میں داخل ہو گئے۔اس سے پہلے آپ کچھ عرصہ تک ڈسٹرکٹ بورڈ کے لوئر پرائمری سکول میں بھی پڑھتے رہے تھے۔یہ سکول غالباً ۴۱-۱۹۴۰ء تک قائم رہا پھر توڑ دیا گیا۔مگر اس کی شکستہ عمارت جس کی چار دیواری گر چکی ہے ابھی تک ریتی پھلہ کے قریب موجود ہے۔اس سکول میں ابتداء حضرت پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی بھی مدرس رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد تھا کہ ”میاں کو بھی سکول لے جایا کرو"۔اور حضرت پیر صاحب اس ارشاد کی تعمیل میں آپ کو اسکول لے جایا کرتے تھے۔تعلیم الاسلام سکول کا افتتاح کس رنگ سے ہوا۔اور اس کی ابتدائی حالت کیا تھی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔" مجھے یاد ہے ہمارا وہ ہائی سکول جس کی اب ایسی عظیم الشان عمارت کھڑی ہے کہ معائنہ کرنے والے انسپکٹر کہتے ہیں پنجاب بلکہ ہندوستان میں کسی سکول کی ایسی عمارت نہیں اس کا جب پہلے دن افتتاح ہوا۔تو مرزا نظام الدین صاحب کے کوئیں کے پاس ٹاٹ بچھا کر لڑکے بٹھائے گئے۔پھر کچھ دنوں تک لڑکے مہمان خانہ میں بٹھائے گئے۔پھر ایک کچا مکان بنایا گیا تھا" 1 | 4A | سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالی کے بعض ہم مکتب یہ ہیں۔- حافظ عبد الرحیم صاحب مالیر کوٹلہ۔قاضی نور محمد صاحب محمد علی صاحب اشرف (حکیم) - دین محمد صاحب پشنز ا کاؤشٹ۔شیخ محمد حسین صاحب چنیوٹی۔(وفات کے جون ۱۹۷۶ء ) اساتذہ کرام "مدرسہ تعلیم الاسلام" کے زمانہ تعلیم میں آپ نے جن اساتذہ سے پڑھا۔ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔1 حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی - (۲) حضرت قاضی سید امیر حسین - (۳) حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ - (۴) حضرت مولانا شیر علی - (۵) حضرت ماسٹر عبدالرحمن نو مسلم - (۲) مفتی محمد صادق - (۷) ماسٹر فقیر اللہ صاحب - (۸) قاضی یار محمد صاحب پلیڈر 10