تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 636
60J خلافت ثانیہ کا چودھواں سال ہوئے تھے کہ اس مقدمہ کو ہائیکورٹ میں جوں کے سامنے کون پیش کرے تو ان چوٹی کے آٹھ دس وکلاء نے ( جو سب کے سب لیڈر اور قومی رہنما اور سردار سمجھے جاتے ہیں ) متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ اس کام کو چوہدری ظفر اللہ خان کے علاوہ اور کوئی شخص کامیابی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتا۔چودھری صاحب موصوف نے اگر چہ اس بات پر بہت زور دیا اور فرمایا کہ آپ حضرات تجربہ ، قابلیت شہرت اور استعداد میں مجھ سے بڑھ کر ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ دار کارکن آپ میں سے کوئی بزرگ ہو جائے اور میں بطور اسسٹنٹ ممکن خدمت اور مدد کرتا رہوں لیکن اس کو کسی ایک نے بھی منظور نہ کیا۔چودھری صاحب نے ہائیکورٹ میں یہ کیسی بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا اور اپنی سحر بیان تقریر کے آخری فقروں میں فرمایا کہ حضرت محمد الیں جن کے احکام کے سامنے دنیا کی چالیس کروڑ آبادی کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں جن کی غلامی پر دنیا کے جلیل القدر شہنشاہ عظیم الشان وزراء مشهور عالم جرنیل اور کرسی عدالت پر رونق افروز ہونے والے بج (جنگی قابلیت پر زمانہ کو ناز ہے) فخر کرتے ہیں ایسے انسان کامل کے متعلق راجپال کی ذلیل تحریر کو کسی حج کا یہ قرار دینا کہ اس سے نبی کریم کی کوئی ہتک نہیں ہوئی تو پھر مسلم آؤٹ لک کے مضمون سے بھی یہ فیصلہ قرار دینے والے کہ اس سے کسی کی کوئی تحقیر نہیں ہوئی صاحب الرائے ٹھرتے ہیں۔اس موقعہ پر مولانا ظفر علی خان صاحب جو اس وقت موجود تھے فرط جوش میں آبدیدہ ہو گئے۔اور ان سے رہا نہ گیاوہ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور چودھری صاحب کا ہاتھ چوم کر ان کو گلے سے لگالیا نیز نهایت پر زور طریق سے یہ بات کہی کہ جو ھے صاحب کی اس تقریر نے واضح طور پر غلط ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں میں مقرر نہیں۔ان واقعات ہیں صرف نظر کرتے ہوئے چودھری صاحب کو ایک زمانہ میں انجمن حمایت اسلام کی نمبری کے لئے مینیجنگ کمیٹی کا بھی ممبر بنایا گیا اور آپ نے مسلمانوں کے مختلف ڈیپوٹیشنز کی ممبری کے فرائض سرانجام " اخبار سیاست (لاہور) ۲۳ جوان کے ۱۹۲ ، نے لکھا:- اس سوال پر کہ عدالت کو اس مقدمہ کی سماعت کا حق حاصل ہے یا نہیں چودھری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء ممبر پنجاب کو نسل نے زبردست تقریر کی اور متعدد حوالے دیگر ثابت کرنا چاہا کہ عدالت ہائے برطانیہ کو ولایت کے قانون عامہ کی رو سے ایسے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے یہ اختیار پرانی عدالت ہائے ہند کو حاصل تھا جو ہمیئی، مدراس اور کلکتہ میں موجود تھیں ان کے بعد انہی شہروں میں عدالت ہائے عالیہ مقرر ہو ئیں ان کو یہ حق خاص طور پر تفویض : والن کے سوا کسی عدالت