تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 620
تاریخ احمدیت جلد " 585 حواش سلسلہ میں آپ کو سیٹھ شیخ حسن یاد گیر اور بعض دوسرے اصحاب سے قرض لینا پڑا تھا۔ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد اول صفحه ۲۳۰ ۲۳۲ ٢٣ الفضل ۱۷ فروری ۱۹۲۵ء صفحه ۵- دراصل اس تحریک پر اخبار سیاست نے نہایت معتبر ذرائع کی بناء پر لکھا تھا کہ آئے دن چندے دیتے دیتے قادیانی مرید بھی کچھ تھک سے گئے ہیں اور اپیل کا اثر تاحال حوصلہ افزا نہیں۔مگر اس کے بعد خودی ۱۳/ مئی ۱۹۲۵ء کی اشاعت میں لکھا معتقدین قادیان اپنے خلیفہ کے ایماء پر بھوکے رہ کر محنت کر کے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر روپیہ دے رہے ہیں۔(بحوالہ الفضل 19 مئی ۱۹۲۵ء صفحه ۳) ۲۵ الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۲۵ء صفحه ۱-۲- الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۷ ۲۷ منعقده ۲۳-۲۴/ جنوری ۱۹۲۵ء بمقام ویلی (الفضل ۵/ فروری ۱۹۲۵ء صفحه ۲) الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۵ء صفحه ۳-۴ ٢٩ الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۱-۲- ۳۰۔منهاج الطالبین صفحه ۳-۱۴ از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی طبع اول و سمبر ۱۹۲۶ء۔۳۵ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحه ۳۹۔الفضل ۳/ نوری ۱۹۲۵ء صفحہ ۷۔الفضل ۱۸ / اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۳-۶- الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۵ الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۳ تا ۶- ۳۶ تاریخ اقوام عالم صفحہ ۷۰۹۰۷۰۸ - اس امر کا پہلی بار انکشاف برطانوی پالیسی کے بہت بڑے ماہر لفٹنٹ کمانڈر ہے۔ایم کین ممبر پارلیمینٹ اسٹنٹ چیف آف سٹاف جبرالٹر نے کیا تھا چنانچہ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں جنگ کے اسباب و علل پر بحث کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اب مذہب کی بنا پر جنگ نہیں ہوتے۔ہاں عرب کے مختلف قبائل میں مذہب ابھی تک باعث مخاصمت ہے واقعہ یہ ہے کہ خود انگلستان نے عربوں کے مذہبی تعصب سے فائدہ اٹھانا چاہا اور شریف حسین کو جو شاہ حجاز بن چکا تھا اس بات پر اکسایا که خلیفتہ المسلمین کی خالی جگہ پر متمکن ہو جائے یہ محکمہ خارجہ کی سازش تھی اور اس کے ذمہ دار قاہرہ کے عرب بیورو کے ارکان تھے لیکن یہ تجویز بالکل ناکامیاب رہی۔اس ناکامی کی وجہ نادانستہ طور پر حکومت ہند بن گئی حکومت ہند اپنی خفیہ حکمت عملی پر کار بند ہوتے ہوئے شریف مکہ کے زبر دست دشمن ابن سعود کو اشرفیاں اور بندوقیں پہنچاتی رہی۔یہ وہابی لوگ اہل مکہ کے خلاف پچھلی صدی سے نبرد آزما ہیں۔ادھر برطانوی محکمہ خارجہ کا عرب بیورو شریف مکہ کو بندوقیں اور اشرفیاں دے رہا تھا حکومت ہند نے تاڑ لیا تھا کہ ابن سعود طاقتور آدمی ہے اس لئے اسے پھانسنا چاہئے اور برطانوی محکمہ خارجہ خلیفتہ المسلمین بنانے کی سازش میں لگا ہوا تھا۔غرض حکومت برطانیہ کا اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے بے خبر تھا اس طرح ابن سعود اور شریف مکہ کی جنگ در اصل حکومت ہند اور برطانیہ کی جنگ تھی اور اس راز کا انکشاف اس وقت ہوا جب صلح کا نفرنس کے موقعہ پر حکومت ہند اور محکمہ خارجہ نے اپنی الگ الگ یادداشتیں برطانوی وزارت کے آگے پیش کیں۔(بحوالہ اخبار تازیانہ (لاہور) ۱۵/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۸) الفضل ۲۰/ جون ۱۹۲۳ء صفحه ۳- الفضل ۴ جون ۱۹۲۵ء صفحه ۳-۴- ۳۹۔حضور نے اپنے اس مضمون میں یہ وضاحت بھی فرمائی کہ محمد بن عبد الوہاب کے پیروؤں کا نام آہستہ آہستہ وہابی پڑ گیا۔اس لئے میں نے وہی نام لکھا ورنہ یہ لوگ اس نام کو استدال نہیں کرتے۔(الفضل ۱۲۰ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۴ الفضل ۲۰/ جون ۱۹۲۵ء صفحہ ۶-