تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 619
تاریخ احمدیت۔جلد " 584 حواش حواشی الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء صفحہ ۱۔ان شہداء کو پتھر مارنے والوں میں بھیرہ کے صوفی عبد الرحیم صاحب پر اچہ بھی تھے جنہوں نے اس حادثہ سے متاثر ہو کر بعد ازاں احمدیت قبول کرلی۔ولادت غالبا ۱۹۰۲ ء وفات ۷ / فروری ۱۹۵۸ء بھیرہ میں دفن کئے گئے۔امان اللہ خاں کی حکومت نے اعلان کیا کہ کابل کے دو اشخاص ملا عبد الحلیم چهار آسیانی ملانور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعوی دائر کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبه / رجب ۱۳۴۳ھ کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعوی دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضہ سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔(اخبار امان افغان بحواله الفضل ۳/ مارچ ۱۹۲۵ء صفحہ ۱۱) اس اعلان میں سازشی خطوط کا جو الزام عائد کیا گیا وہ امان اللہ خان کی حکومت اپنے عہد اقتدار کے آخری دن تک ثابت کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔دراصل جس حکومت میں محض مذہبی اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کر ناروا ہو وہاں چند سازشی خطوط کا مرحومین کے مجھے مڑھ دینے میں کیا مضائقہ سمجھا جا سکتا تھا پھر عجیب تر بات یہ تھی کہ مزید تفتیش تو ابھی ہونے والی تھی۔مگر سزا پہلے دے دی گئی۔الجمعیتہ (دیلی ۱۰ / اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۹ بحواله الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۲۵ء والفضل ۱۱ / اپریل ۱۹۲۵ء صفحہ ۱-۲- م الفضل ۳ / مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۱۱- بحوالہ اخبار الفضل ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء صفحه ۱ -۵- بحواله الفضل ۳۶/ فروری ۱۹۲۵ء صفحه ۵ اخبار ریاست دیلی ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء۔دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر اخبار ریاست نے اپنی مشہور کتاب ”نا قابل فراموش" کے صفحہ ۴۲۴۱ پر بھی اپنے اس احتجاج کا ذکر کیا ہے۔الفضل ۱۳/ مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۶ - الفضل ۱۹ / فروری ۱۹۲۵ء صفی ۶-۷- "سیرت محمد علی صفحه ۵۱ ( از سید رئیس احمد صاحب جعفری) طبع دوم ۱۹۵۰ء۔۱۲ بحواله الفضل ۳/ مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۱ ۱۳- بحواله الفضل ۱۰/ مارچ ۱۹۲۵ء- -۱۴ اصل مضمون میں الدین کی بجائے احمد کا لفظ لکھا گیا ہے جو سمو کتابت ہے۔(ناقل) ۱۵ روزنامه " ہمد رد " دیلی ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء صفحہ ۱۳ اس سلسلہ میں جناب محمد علی جوہر کی ایک تحریر کا عکس الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۵۲ء میں شائع ہو چکا ہے) ۱۶ سیرت محمد علی از رئیس احمد صاحب جعفری صفحه ۵۱ ۱۷ منقول از الفضل ۲۱ / مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۶-۷ - ۱۸ اخبار اہلحدیث امر تسر ۳/ اکتوبر ۱۹۲۴ء صفحه ۳-۴- 19 بحواله الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۲۵ء صفحه ۳ ۲۰ زمیندار ۱۱۹ فروری ۱۹۲۵ء بعنوان احقاق حق بحواله الفضل ۲۸ فروری ۱۹۲۸ء صفحه ۴ ۲۱ حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب اور حضرت امتہ الحی صاحبہ وغیرہ کی وفات کے صدمات کی طرف اشارہ ہے۔۲۲- جیسا کہ پچھلے سال کے حالات میں ذکر کیا جاچکا ہے حضرت خلیفہ ثانی نے سفر یورپ کے ذاتی اخراجات خود برداشت کئے اور اس