تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 613 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 613

تاریخ احمدیت جلد ۴ 578 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال تک جاری نہیں رکھ سکتا۔تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہو رہی ہے۔وہ زائل نہ ہو جائے اس لئے میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں "۔جماعت احمدیہ سے تبلیغ اسلام سے متعلق عہد کی تجدید مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کے دوران جماعت کے سامنے کئی اہم امور زیر بحث آئے جن میں ایک بہت بڑا مسئلہ اچھوت اقوام میں تبلیغ کا تھا۔جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے جماعت کے نمائندوں سے تبلیغ اسلام کی مہم جاری رکھنے کا عہد لیا کہ اگر ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ بھی اشاعت اسلام میں لگ جائے گا تو ہم تبلیغ اسلام بند نہ کریں گے - نیز پر شوکت الفاظ میں فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہمیں دلوں کی عمارتیں بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ہمیں اینٹ پتھر کی عمارتوں سے کیا غرض ! آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آئندہ لوگ آئیں گے جو سنگ مرمر کی عمارتیں بنائیں گے ان میں سونے کا کام کریں گے۔یہ کام ان کے لئے رہنے دو - آؤ ہم دلوں کی عمارتیں بنائیں۔پس اگر ہمیں ان عمارتوں کو فروخت کرنا پڑے ، ان زمینوں کو بیچ ڈالنا پڑے تو کوئی پرواہ نہیں۔یہ سارا نظام اسی وقت تک ہے جب تک ہم اصل فرض اور مقصد کو پورا کر سکتے ہیں۔جب ہم سمجھیں گے کہ اسلام کی عزت اس کی محتاج ہے تو ہمیں ان کے بیچ ڈالنے میں ایک منٹ کے لئے بھی دریغ نہ ہو گا۔مگر کوئی غیرت مند آدمی پسند نہ کرے گا کہ اس کا مکان تو باقی رہے اور قوم کی عمارتیں بک جائیں۔اس کی زمین تو باقی رہے لیکن اسلام کی زمین فروخت ہو جائے۔۔۔۔۔۔اگر صرف آپ لوگ جنہوں نے آج اقرار کیا ہے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جا ئیں تو میں سمجھوں گا اسلام کی فتح کا زمانہ آگیا اور میں دشمن پر فتح پا گیا ہے۔فسادات لاہور اور جماعت احمدیہ کی مئی ۱۹۲۷ء کے پہلے ہفتہ کا آغاز فسادات لاہور طرف سے مظلوم مسلمانوں کی امداد سے ہوا جس میں لاہور کے مظلوم اور بے کس مسلمانوں کا خون دو تین دن تک نهایت بے دردی سے بہایا جاتا رہا۔قادیان میں اس دردناک حادثہ کی اطلاع پہنچی تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو سخت قلق و کرب ہوا اور آپ نے ذوالفقار علی خان صاحب (ناظر اعلیٰ) اور مفتی محمد صادق صاحب (ناظر امور عامہ) کو فورا قیام امن ، خدمت خلق اور امداد مظلومین کی غرض سے اور مسلمانوں کی قانونی امداد کے لئے مولوی فضل الدین صاحب وکیل کو لاہور روانہ فرمایا۔اس کے بعد حضور کی ہدایات لے کر بھائی عبدالرحمن