تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 608
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ چھٹا باب (فصل پنجمی) 573 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال خلافت ثانیہ کا چودھواں سال جنوری ۷ ۱۹۲ء سے دسمبر۷ ۱۹۲ء تک ممطابق جمادی الآخر ۱۳۴۵ھ تا رجب ۱۳۴۶ھ) ۱۹۲۷ء یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ اس سال حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی قیادت میں جماعت احمدیہ نے آنحضرت اللہ کی ناموس و عزت کے تحفظ اور مسلمانان ہند کی ترقی و بہبود کے لئے ایک زبر دست تحریک شروع کی جس نے دوسرے مسلمانوں میں بھی نئی زندگی نیا جوش اور نیا ولولہ ان میں پیدا کر دیا اور وہ بھی متحد ہو کر جماعت احمدیہ کے دوش بدوش اسلام کی حفاظت کے لئے تیار ہوئے۔ایک جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔اس لحاظ سے یہ زمانہ جماعت احمدیہ اور دیگر مسلمانان ہند کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل کہلانے کا مستحق ہے۔جماعت احمدیہ کو تبلیغی جنگ کیلئے تیار ہونے کا ارشاد بوت شردھانند صاحب کے قتل نے ہندو قوم میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زیر دست آگ لگادی۔اور پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہندوؤں نے عزم کر لیا کہ وہ پنڈت شردھانند کا کام بہر کیف جاری رکھیں گے اور اپنی جان اور اپنا مال تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اس غرض کے لئے ایک " شردھانند میموریل فنڈ قائم کیا گیا اور ہندو شدھی سبھا نے اپنی سرگرمیاں اور زیادہ تیز کر دیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے جماعت کے سامنے یہ تشویشناک صورت رکھتے ہوئے بتایا کہ اب اسلام پر جو حملہ ہو گا۔اس کا دفاع ہمیں کرنا ہو گا۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔"ہندوستان میں سپین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔یہ جو ہندوؤں کی طرف سے چیلنج دیا گیا ہے اگر احمدی جماعت اس کے جواب کے لئے میدان میں نکل کھڑی ہو تو یقیناً اسلام کی فتح ہے پس میں احمدی دوستوں سے کہتا ہوں۔اگر وہ اس جنگ کے لئے تیار ہوں تو دو ایک جان ہو کر مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور ایسی بلند آواز اٹھائیں کہ ہر ہندو