تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 602
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ضرورت نہیں۔567 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال سوامی شردھانند صاحب کا قتل اور حضرت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲ اپریل ۱۸۹۳ء کو کشف دیکھا کہ ”میں ایک مسیح موعود کی ایک پیشگوئی کا ظہور وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل صہیب شکل گویا اس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملا ئک شداد غلاظ میں سے ہے۔اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکر ام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔تب میں نے اس وقت سمجھ لیا کہ یہ شخص لیکھرام اور دوسرے شخص کی سزاد ہی کے لئے مامور کیا گیا ہے۔مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ؟ اس کشف کی وضاحت میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب "حقیقتہ الوحی" میں تحریر فرمایا۔اب تک مجھے معلوم نہیں کہ وہ اور شخص کون ہے اس فرشتہ خونی نے اس کا نام تو لیا مگر مجھے یاد نہ رہا۔کاش اگر مجھے یاد ہو تا تو اسے میں متنبہ کرتا۔تا اگر ہو سکتا تو میں اسے وعظ و نصیحت سے تو بہ کی طرف مائل کرتا لیکن قرآئن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص بھی لیکھرام کا روپ یا یوں کہو کہ اس کا بروز ہے اور تو نہین اور گالیاں دینے میں اس کا مثیل ہے۔واللہ اعلم " یہ عظیم الشان پیشگوئی ۲۳/ دسمبر ۱۹۲۶ء کو پوری ہوئی جب کہ شدھی تحریک کے علمبردار اور رام کے مثیل (منشی رام) سوامی شردھانند صاحب ایک مسلمان عبدالرشید خوشنویس کے ہاتھوں دہلی میں قتل ہو گئے۔سوامی شردھانند کا لیکھرام ثانی ہو نا خود آریہ سماجی حلقوں نے تسلیم کیا۔چنانچہ روزنامه تیج (۲۵/ دسمبر ۱۹۲۶ء صفحہ ۲) نے لکھا۔ہمیں وہ نظارہ نہیں بھولتا۔جب پنڈت لیکھرام کے بلید ان کے سماچار سنتے ہی شریمان مهاتما نشی رام جی جالندھر سے لاہور آئے اور پنڈت لیکھرام کی شہادت کے متعلق سب کام اپنے ہاتھ میں لے کر آریہ بنا کو دھرم پر در ڑ (پختہ ) رہنے کا اپدیش دیا - " اسی اخبار نے ۲۷/ دسمبر ۱۹۲۶ء کو شائع کیا کہ۔سوامی جی لیکھرام ثانی تھے۔۔۔سوامی شردھانند جی ایک افضل اور برگزیدہ ترین آریہ سماجی نیتا تھے۔لاہور میں سورگیہ پنڈت لیکھرام جی آریہ مسافر کی شہادت کے پورے ہیں، سال، بعد دہلی میں۔۔۔۔۔۔