تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 601
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 566 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال اکثر تہجد پڑھنے لگے - انجمن انصار اللہ کے طالب علموں میں ان کا ایک اسلامی سیونگ بینک " بھی قائم فرمایا۔جس کی مثال پیش کرتے ہوئے حضور نے مولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار " لاہور کو ملاقات میں بتایا کہ مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مسلم بینک کھولے جائیں جن میں سود کا شائبہ تک نہ ہو۔انگریزی اخبار ”سن رائز " کا اجراء خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت بیرونی ممالک میں روز بروز بڑھ رہی تھی اور تربیتی اور تبلیغی ضروریات کا تقاضا تھا کہ مرکز سے ایک ایسا انگریزی اخبار جاری کیا جائے جو ایک طرف دنیا میں پھیلی ہوئی جماعتوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایات و خطبات اور مرکزی تحریکات سے آگاہ رکھے۔اور دوسری طرف غیروں میں اسلام و احمدیت کی اشاعت کرے۔ان اغراض و مقاصد کے پیش نظر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک پندرہ روزہ انگریزی اخبار جاری کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کا نام "سن رائز" رکھا 100 - • اخبار "سن رائز" مولوی محمد الدین صاحب بی۔اے ( مبلغ امریکہ) کی زیر ادارت و سمبر ۱۹۲۶ء میں جاری ہوا - وسط ۱۹۲۸ء میں ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے آپ کے دور میں اخبار کا علمی معیار بھی بلند ہوا اور اس کی اشاعت میں بھی اضافہ ہوا۔یکم ستمبر ۱۹۳۰ء سے اسے ہفتہ وار کر دیا گیا۔مارچ ۱۹۳۲ء میں اخبار لاہور ( فلیمنگ روڈ) میں منتقل ہو کر مسٹر مجید ملک ایم۔اے۔ایل ایل بی کی ادارت میں نکانا شروع ہوا۔مگر جلد ہی بند ہو گیا اور اس کا دوبارہ اجراء قاضی عبدالمجید صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی کے ذریعہ ہوا اور آپ نے عرصہ تک بڑی محنت اور توجہ سے یہ کام انجام دیا۔تقسیم ملک کے بعد یہ اخبار بعض واقفین کے زیر ادارت شائع ہو تا رہا۔۱۹۵۰ء کے شروع میں مکرم نیم سیفی صاحب اس کے انچارج مقرر ہوئے۔اور ماہ اکتوبر ۱۹۵۰ء میں ان کے نائیجیریا تبلیغ اسلام کے لئے جانے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ " ریویو آف ریلیج " انگریزی کی موجودگی میں اس کی ضرورت نہیں لہذا اسے بند کر دیا جائے۔سن رائز" نے قریباً ربع صدی تک نہ صرف جماعت احمدیہ کی تربیتی اور تبلیغی ضروریات پوری کی ہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کی سیاسی تحریکات میں بھی نمایاں حصہ لیا ہے۔احمدی خواتین کے لئے ۱۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو اخبار "مصباح" اخبار " مصباح" کا اجراء جاری ہوا۔جس کے پہلے ایڈیٹر حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل مقرر ہوئے اس کا ذکر "لجنہ اماءاللہ" کے حالات (۱۹۲۳ء) میں آچکا ہے۔اس کے اعادہ کی