تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 600
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 565 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال نہیں بلایا بلکہ تقریب افتتاح میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔مگر انہوں نے آنے سے معذوری ظاہر کردی۔مسیحیوں کے ایک فرقہ کے اخبار ” بیٹیسٹ ٹائمز“ نے لکھا۔" اس مسجد کی تعمیر ایک چیلنج سمجھنا چاہئے مغرب اب تک مشرق کو مذہباً اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔مگر افسوس کہ اس نے اپنی طاقت کو اپنے گھر میں ہی کمزور کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب مشرق بھی مغرب کی طرف دیکھنے لگا ہے۔اب مسلمانوں کی اذان کا نعرہ اس سرزمین میں سنایا جانے والا ہے۔اس کے بعد اس اخبار نے پادریوں پر اعتراض کیا جو افتتاح میں شریک ہوئے تھے اور متنبہ کیا کہ اگر عیسائیت کا کوئی حقیقی دشمن ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ای طرح مسٹرلارنس نے کلکٹن میں ایک بحث کے دوران میں اس امر پر بہت حیرت کا اظہار کیا کہ انگلستان کی تمام مسیحی جماعتوں نے کیوں متحد ہو کر ایسا مقابلہ نہ کیا کہ اس سرزمین پر یہ مسجد تعمیری نہ ہو سکتی" F14 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی به رۃ العزیز نے نومبر انجمن انصار اللہ " کا قیام ۱۹۲۶ء میں احمدی بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے " انصار اللہ " کے نام سے ایک نئی انجمن قائم فرمائی۔اس انجمن میں زیادہ تر طالب علم شامل تھے۔مدرسہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلباء مع اساتذہ مختلف گروپوں کی صورت میں عصر کی نماز کے بعد مدرسہ احمدیہ کے صحن میں اکٹھے ہوتے اور حضور ممبروں کو خود ہدایات دیتے تھے۔اس انجمن کا پہلا اجلاس ۵/ نومبر ۱۹۲۶ء کو منعقد ہوا۔جس میں حضور نے انصار اللہ " کے ہر ممبر کا فرض قرار دیا کہ اسے آیتہ الکرسی اور تین آخری سورتیں یاد ہونی چاہئیں اور اس کے پاس تین کتابیں ضرور ہونی چاہئیں۔(۱) قرآن مجید (۲) کشتی نوح (۳) ریاض الصالحين - انجمن کے ممبروں کو حضور نے وقتا فوقتا جو نصائح فرما ئیں ان میں تجد ، خوش اخلاقی استقلال یکسوئی ، السلام علیکم کی ترویج پر آپ نے خاص طور پر زور دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر دونوں سکولوں کے طلباء نے اپنے اپنے نمائندوں کا بھی انتخاب کیا۔چنانچہ مدرسہ احمدیہ کے بچوں نے پہلے سال کے لئے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے مرزا منصور احمد صاحب کو اپنا نمائندہ منتخب کیا - اس انجمن نے اپنے ممبروں میں بہت تھوڑے عرصہ میں نمایاں تبدیلی پیدا کر دی اور ان میں سے tr